حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 207
حقائق الفرقان ۲۰۷ سُورَةُ الْبَقَرَة جھوٹ کے ظاہر ہونے پر وعدہ خلافی کرنے والے کے خلاف وعدہ پر ان کو کیسا دکھ ہوتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے مذہبی حیثیت سے اپنے پاک اور ثابت شدہ بین اور روشن عقائد اور اصول مذہب کے لحاظ سے کل دنیا پر فضیلت رکھتے ہیں ۔ کیا خدا تعالیٰ کے حضور کوئی صرف دعوے سے افضل ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ خدا تعالی مخفی در مخفی ارادوں اور نیتوں کو جانتا ہے اس کے حضور نفاق کام نہیں آ سکتا بلکہ مَنْ آتَى اللَّهَ بِقَلْبِ سَلِيمٍ (الشعراء: ۹۰) کام آتا ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۷ مورخہ ۱۳ مارچ ۱۸۹۹ء صفحہ ۳ تا ۵ ) قرآن کریم عجیب عجیب پیرائے میں نصیحتیں فرماتا ہے۔ بہادر سپاہی کی اولاد تم بھی غور کر لو! کوئی اپنے آپ کو سید سمجھتا ہے وہ اپنے بڑوں کی بہادری پر کتنا فخر کرتا ہے۔ کوئی قریشی کہلاتا ہے وہ سیدوں کو اپنی جز وقرار دیتا ہے۔ اسی طرح کوئی مغل ہے۔ کوئی پٹھان ، کوئی شیخ ۔ غرض مخلوق کے تمام گروہ اپنے آپ کو کسی بڑے آدمی سے منسوب کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ بڑا آدمی کیوں بنا؟ اپنے اعمال سے۔ پس اگر تم ان اعمال کے خلاف کرو گے تو کیا بڑے بن سکتے ہو؟ ہرگز نہیں ۔ جو بہادری انسان کو بڑا بنا سکتی ہے کیا اُس بہادری کا ترک کر دینا انسان کو بر دل نہیں بنا سکتا۔ پس میرے پیارو! اگر تم بڑوں کی اولاد ہو اور خدا نے تمہیں تیرہ سو برس سے عزت دی تو بڑوں کے کاموں کو نابود کرنے والے نہ بنو۔ تم خود ہی بتاؤ کہ وہ شرک کرتے ، جھوٹ بولتے ، دھوکا کرتے ، دوسروں کو دکھ دیتے تھے؟ ہر گز نہیں۔ تو کیا تم ان افعال کے مرتکب ہو کر بڑے بن سکتے ہو؟ بنی اسرائیل کو تو خدا نے شام میں بڑائی دی تھی مگر اسلام نے یہاں تک معزز کیا کہ تمہیں سارے جہان میں عظیم انسان بنا دیا۔ اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ یہ آیت نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ تمہیں انعامات النبی یاد دلانے کے لئے نازل ہوئی ہے۔ اگر تم انعام النبی کی ناقدری کرو گے تو اس کا وعید تیار ہے کیونکہ جس طرح نیکی کا پھل اعلیٰ درجے کا آرام ملتا ہے ایسا ہی بدی کا پھل بھی ذلت و ادبار کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ یہود کو کفرانِ نعمت کی سزا میں پہلے مدینہ ے ہاں جو آئے گا اللہ کے پاس بے عیب دل لے کر ۔ ( ناشر )