حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 206
حقائق الفرقان ۲۰۶ سُورَةُ الْبَقَرَة اور ان کو یاد کر کے اس محسن اور منعم کی محبت کو دل میں جگہ دو۔اس کے بے شمار اور بینظیر احسانوں پرغور تو کرو کہ اُس نے کیسی منور اور روشن آنکھیں دیں جن سے وسیع نظارہ قدرت کو دیکھتے اور ایک حفظ اُٹھاتے ہیں۔کان دیئے جن سے ہر قسم کی آوازیں ہمارے سننے میں آتی ہیں۔زبان دی جس سے کیسی خوشگوار اور عمدہ باتیں کہہ کر خود بخود خوش ہو سکتے ہیں۔ہاتھ دیئے کہ جن سے بہت سے فوائد خودہم کو اور دوسروں کو پہنچتے ہیں۔پاؤں دیئے کہ جن سے چل پھر سکتے ہیں۔پھر ذرا غور تو کرو کہ دنیا میں اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ ادنی سا احسان بھی کرتا ہے تو وہ اس کا کس قدر ممنون ہوتا ہے اور ہر طرح سے اس احسان کو محسوس کرتا ہے۔غرض کل دُنیا کی نعمتوں سے جو انسان مالا مال ہو رہا ہے یہ اس کی ہی ذرہ نوازیاں ہیں۔جسمانی نعمتوں اور برکتوں کو چھوڑ کر اب میں ایک عظیم الشان نعمت رُوح کے فطرتی تقاضے کو پورا کرنے والی نعمت کا ذکر کرتا ہوں۔وہ کیا؟ یہ اُس کا پاک اور کامل کلام ہے جس کے ذریعے سے انسان ہدایت کی صاف اور مصفا راہوں سے مطلع اور آگاہ ہوا اور ایک ظلمت اور تاریکی کی زندگی سے نکل کر روشنی اور نور میں آیا۔ایک انسان دوسرے انسان کی باوجود ہم جنس ہونے کے، رضا سے واقف نہیں ہو سکتا تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا سے واقف ہونا کس قدر محال اور مشکل تھا۔یہ خدائے تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے اپنی رضا کی راہوں کو بتلانے اور اپنی وراء الوراء مرضیوں کو ظاہر کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ قائم فرمایا۔۔۔یہ احسان ہے اللہ تعالیٰ کا جو اسلام سے مخصوص ہے کہ بھولی بسری متاع اللہ تعالیٰ ، جیسا وقت ہوتا ہے اس کے لحاظ سے اُس کا یاد دلانے والا بھیج دیتا ہے۔یہ انعام ہے۔یہ فضل اور احسان ہے اللہ تبارک و تعالی کا۔۔۔اس آیت میں خدا تعالیٰ اُس فطرت کے لحاظ سے جو انسان میں ہے ارشاد فرماتا ہے کہ میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی ہیں۔وَ إِنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ (البقرة : ۴۸) بنی اسرائیل کو کہتا اور مسلمانوں کو سناتا ہے کہ اور میں نے تم کو دنیا پر ایک قسم کی بزرگی عطا فرمائی ہے۔خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والا آسمانی اور پاک علوم سے دلچسپی رکھنے والا جیسی زندگی بسر کر سکتا ہے اُس سے بہتر اور افضل و ہم میں بھی نہیں آ سکتی۔منافق کا نفاق جب ظاہر ہوتا ہے تو اس کو کیسی شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے۔جھوٹ بولنے والے کے