حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 174 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 174

حقائق الفرقان ۱۷۴ سُورَةُ الْبَقَرَة جیسا کہ ہمیں خدا نے کسی بیماری کا ایک نسخہ سکھلا دیا۔دوسرے نہیں جانتے۔وہ اس میں ہمارے محتاج ہیں جس کو ہم بتائیں وہی جانے۔اسی طرح ملائکہ کو ارشاد ہے کہ تم سب ہماری تعلیم میں محتاج ہو جس کو ہم پڑھا ئیں وہی پڑھے۔اسماء۔وہ اسماء کیا ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھلائے۔بعض صحابہ نے فرمایا ہے کہ وہ زبان تھی۔بعض نے لکھا ہے کہ وہ اسمائے الہیہ تھے۔بعض کے نزدیک کلمات دعائیہ تھے مگر ایسی تحقیقاتوں میں توغل کرنا ایک بے فائدہ کوشش ہے۔(البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ ۱۷اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۸) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ، دیوتا اور سروں کو آدم کے خلیفہ بنانے پر جب یہ فرمایا انّي اَعلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ( البقرۃ: ۳۱) اس دعوی کی نہایت لطیف دلیل بتائی۔دعوئی تو یہ فرمایا کہ بے ریب میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور اس دعوی کا ثبوت یوں دیا وَ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلَّهَا (البقرة: ۳۲) آدم کو چیزوں کے نام سکھائے اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو دی۔اتنا تو ثابت ہوا کہ جو چیز آپ کو سکھائی گئی وہ فرشتے نہیں جانتے تھے اگر وہ جانتے تو اس چیز کے بتانے سے عاجز آ کر یہ نہ کہتے سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَيْتَنَا (البقرة: ٣٣) آدم کو ایسی بات تعلیم کر دینی جس کا علم فرشتوں کو نہ ہو۔ضرور اس کا مثبت ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ کچھ جانتا ہے جسے فرشتے نہیں جانتے۔اگر فرشتے جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اگر آدم کو پڑھادیا تھا گو ہم نے مانا کہ علیحدہ پڑھا یا تھا تو واجب تھا کہ فرشتے بدوں اس کے کہ خدا سے پڑھتے بتلا دیتے اور اگر نہ بتلا سکے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فرموده أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرۃ: ۳۱) بالکل سچ تھا۔جب وہ ایسا علیم تھا کہ فرشتے اس کے علوم سے بے خبر ہیں تو اس کے کسی فعل پر کسی کو خواہ ملائکہ کیوں نہ ہوں اعتراض کا موقع نہیں۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۱۱،۱۱۰) اب ہر سہ گروہ ( منعم علیہم، مغضوب علیہم اور ضالین۔مرتب ) کا ذکر تمثیلی رنگ میں فرماتا ہے۔۔۔۔و نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ یعنی یہ ایک سوال ہے مگر ہم آپ کو گلی عیوب سے پاک جانتے میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔سے تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا۔