حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 175
حقائق الفرقان ۱۷۵ سُورَةُ الْبَقَرَة ہیں۔ابع أعْلَمُ کا ثبوت عَلَّمَ آدَم سے دیا یعنی اس کو سکھا دیا۔فرشتوں کو نہ پڑھایا اور بتا یا۔دیکھو جسے ہم پڑھاتے ہیں وہی جانتا ہے دوسرا نہیں۔ان مسمیات کو پیش کیا وہ نام کیا تھے۔اس میں تشخص بیہودہ ہے۔صوفیوں نے اسماء الہی مراد لئے فلاسفروں نے ہر چیز کا ربّ النوع مَا كُنتُم تَكْتُمُونَ۔اللہ نے اپنی عظمت کا ذکر فرمایا کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں یہ نہیں کہ فرشتے دل میں کوئی برا خیال رکھتے تھے۔( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۳۶، ۴۳۷) الاسماء۔کچھ نام سکھا دیئے وہ نام کیا تھے اس پر لوگوں نے بحث کی ہے۔صوفی تو کہتے ہیں اللہ نے اپنے نام سکھائے ، فلاسفر کہتے ہیں چیزوں کے نام اور خواص۔یہ سب باتیں قیاسی طور پر کہی جاتی ہیں۔کسی وحی سے ثابت نہیں۔پس میں اتنا کہوں گا کہ اللہ نے کچھ باتیں سکھائیں ان کو اللہ خوب جانتا ہے پھر فرشتوں سے کہا کہ کیا تم بتا سکتے ہو۔اس پر ایک عیسائی نے اعتراض کیا ہے کہ اللہ نے ملائکہ سے نا انصافی کی کہ ان کو نہ بتایا اور آدم کو بتایا حالانکہ وہ نادان نہیں جانتا کہ ثابت بھی یہی کرنا تھا کہ جسے میں علم دوں وہ عالم ہے اور جسے میں نہ دوں وہ جاہل ہے چنانچہ فرمایا ہے كُلُّكُمْ ضَالٌ إِلَّا مَن هَدَيْتُهُ كُلُّكُمْ عَادٍ إِلَّا مَنْ كَسَيْتُه پہلے دونوں جاہل تھے اور دونوں تعلیم کے محتاج۔آدم کو پڑھا دیا اسے آ گیا۔ملائکہ کو نہ پڑھایا اسے نہ آیا چنانچہ فرشتوں نے خود اقرار کیا سُبحَنَكَ لَا عِلْمَ لنا إلا ما علمتنا پھر فرما یا اَعْلَمُ غَيْبَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ خدا تعالیٰ زمین و آسمان کی چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے وہ علیم وحکیم ہے۔ایک بچہ درزی کو دیکھے کہ اس نے تمام تھان کے ٹکڑے کر دیئے تو وہ گھبرا اُٹھتا ہے کیونکہ نہیں جانتا کہ یہ ٹکڑے ایک اعلیٰ ملبوس بننے والے ہیں اسی طرح اللہ کے مصالح اکثر نادانوں سے مخفی رہتے ہیں وہ ظاہری صورت دیکھ کر چلا اٹھتے ہیں۔گلستان میں ایک شخص کی حکایت ہے کہ وہ لنگڑا ہو گیا اور ایک دن بیگار میں لوگوں کو پکڑ رہے تھے اُسے چھوڑ گئے تو وہ خدا کا شکر بجالایا۔قرآن شریف میں موسی اور خضر کا قصہ ہے۔خضر نے ایک کشتی کو عیب ناک کر دیا اور بعد میں اس کی حکمت ظاہر ہوئی۔پس ہمیں چاہیے کہ خدا کی حکمتوں پر ایمان لائیں اے تم میں سے ہر ایک گم گشتہ راہ ہے۔سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں ، راہ دکھاؤں۔اور ہر ایک برہنہ ہے سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں۔(ناشر)