حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 173
حقائق الفرقان ۱۷۳ سُورَةُ الْبَقَرَة تو ہومگر بالعکس بالکل غلط ہے۔ہاں حضرت آدم شیطان کی ناراستی اور قسم پر دھوکا کھا جاتے تو ممکن تھا کیونکہ نیکوں کے نیک گمان ہوتے ہیں۔نیک آدمی فریبیوں کی باتوں پر اپنے نیک گمان کے سبب غلطی کھا سکتے ہیں۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۰۳ تا ۱۰۹) میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خَلِيفَةً (البقرة : ٣١) خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنا یا کس نے؟ اللہ تعالیٰ نے اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲۲ ۲۳ مورخه ۲۸٬۲۱ / جون ۱۹۱۲ صفحه ۱۹٬۱۸) ۳۲ تا ۳۴ - وَعَلَمَ آدَمَ الْإِسْمَاء كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَكَةِ فَقَالَ انونى بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِن كُنتُم صُدِقِينَ - قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا علمتَنا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - قَالَ يَادَمُ انْبِتُهُم بِأَسْبَابِهِمْ فَلَمَّا انباهُم بِأَسْبَابِهِمْ قَالَ اَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ۔ترجمہ۔اور آدم کو سب چیزوں کے نام سکھا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے فرمایا تم بتاؤ تو مجھے ان چیزوں کے نام جب تم سچے ہو۔فرشتوں نے عرض کی کہ آپ کی ذات بے عیب، بڑی خوبیوں والی ہے جو تو نے ہمیں بتا دیا ہے اُس کے سوائے ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ہاں ہاں تیری ہی ایسی ذات پاک ہے جو کامل علم اور کامل حکمت والی ہے۔اللہ نے آدم کوفرمایا ، اے آدم فرشتوں کو ان کے نام بتا دے تو آدم نے جب فرشتوں کو ان کے نام بتا دیئے تو اللہ نے (فرشتوں سے ) فرمایا کیوں ہم نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ہمیں آسمان و زمین کی سب چھپی چیز میں معلوم ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں جو تمہارے ارادے ظاہر ہیں اور جو تم سے چھپے ہوئے ہیں۔تفسیر۔(اس سوال پر کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسی باتیں آدم علیہ السلام کو سکھا ئیں جو فرشتوں کو معلوم نہ تھیں پھر اسے فرشتوں کے سامنے پیش کیا ) فرمایا۔فرشتوں کو یا انسان کو جو کچھ ملا ہے سب خدا ہی کی طرف سے ہے۔اس کی مثال ایسی ہے