حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 172

حقائق الفرقان ۱۷۲ سُورَةُ الْبَقَرَة فَقُلْتُ لِوَاحِدٍ مِنْهُمْ مَنْ أَنْتُمْ ، فَقَالَ نَحْنُ مِنْ أَجْدَادِكَ الْأَوَّلِ فَقُلْتُ كَمْ لَكُمْ مِنَ الزَّمَانِ وَ الْمُدَّةِ فَقَالَ بِضْعُ وَ أَرْبَعُونَ أَلْفَ سَنَةٍ فَقُلْتُ لَيْسَ لِأَدَمَ قَرِيبٌ مِنْ تِلْكَ السِنِينَ فَقَالَ عَنْ أَنِي آدَمَ تَقُولُ عَنْ هَذَا الْأَقْرَبِ إِلَيْكَ أَوْ غَيْرِهِ فَفَكَّرْتُ فَتَذَكَرْتُ حَدِيثًا مِنْ رَّسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ قَبْلَ أَدَمَ الْمَعْلُوْمِ عِنْدَنَا مِائَةَ الْفِ ادَمَ ! شیخ صاحب کہتے ہیں میں عالم کشف میں حضرت ادریس نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے ملا اور اس کشف کی صحت پر سوال کیا ۔ فَقَالَ إِدْرِيسُ صَدَقَ الْخَبَرُ وَصَدَقَ شُهُودُكَ وَمُكَاشِفَتُكَ ۔ ☑ جب ملائکہ، دیوتا نے اپنے اس غلط قیاس کے باعث وہ عرض کی جس کا ذکر آیت اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا میں گذرا تب باری تعالیٰ نے ملائکہ کوفر ما یا إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة: (۳۱) اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کی غیب دانی پر غور کرو ۔ کیسی غیب دانی ہے اور وہ پاک ذات اپنے علم کے ساتھ کیسا محیط انگل ہے ۔ کسی تاریخ سے قرآن کی کسی آیت سے معلوم نہیں ہوتا کہ آدم علیہ الصلوة والسلام سے کسی قسم کا فساد فی الارض یا سفك دماء ہوا ہو ۔ ملائکہ کا اعتراض حضرت آدم پر تھا اور اعتراض بھی یہ کہ فساد فی الارض اور سفك دماء اس سے سرزد ہو گا مگر حضرت آدم ان عیوب سے پاک اور بری نکلے ۔ اگر حضرت آدم کی اولاد میں سے کوئی شخص اُن کی طرز پر نہ چلا تو اُس کے جرم سے حضرت قصور وار نہیں ہو سکتے ۔ اولاد کے گناہ سے باپ کو بدنام کرنا اور بیٹے کے قصور پر باپ کو ملامت کے قابل بنانا بے انصافی ہے۔ باپ کی کرتوت سے بیٹا بدنام ہو لے میں نے ان میں سے ایک سے کہا آپ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا۔ ہم تیرے پہلے باپ دادوں سے ہیں ۔ میں نے کہا تمہیں کتنا عرصہ ہوا۔ کہا پچاس ہزار سال کے۔ میں نے کہا اس ہمارے آدم کو اتنے برس نہیں ہوئے ۔ اس نے کہا تو کس آدم کی بابت کہتا ہے۔ اس اپنے قریبی آدم کی بابت یا کسی اور کی بابت ۔ میں سوچ میں پڑ گیا ۔ اتنے میں مجھے ایک حدیث یاد آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس معلوم آدم سے پہلے لاکھ آدم پیدا کئے ۔ پس حضرت ادریس نے فرمایا۔ خبر درست ہے۔ تیرے گواہان نے سچ بیان کیا اور تیرا مکاشفہ سچا ہے۔ ( ناشر ) سے میں وہ بھید خوب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ (ناشر)