حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 171
حقائق الفرقان 121 سُورَةُ الْبَقَرَة اسْكَنَ الْجِنَّ فِي الْأَرْضِ فَمَكَّحُوا فِيْهَا دَهْرًا طَوِيلًا ثُمَّ ظَهَرَ فِيْهِمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْى فَأَفْسَدُوا فِيهَا فَبَعَكَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ جُنَدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُقَالُ لَهُ الْجِنَّ وَهُمْ خَزَانُ لے الْجَنَانِ اشْتَقَ لَهُمْ اِسْمُ مِنَ الْجِنَّةِ رَأْسُهُمْ اِبْلِيسُ فَكَانَ رَئيسُهُمْ - (تفسیر سراج المنير از خطیب شربینی جزء اصفحه ۹۵) وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍ وَكَانَ الْجِن بَنُو الْجَانِ فِي الْأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تُخْلَقَ ادَمُ بِالفَى ٢٠٠٠ سَنَةٍ فَأَفْسَدُوا فِي الْأَرْضِ وَسَفَكُوا الدّمَاءَ فَبَعَثَ اللَّهُ جُنَّدًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَضَرَبُوْهُمْ حَتَّى الْحَقُوْهُمْ بِجَزَائِرِ الْبُحُورِ۔(ابنِ کثیر زیر آیت البقرة: ۳۱) - ان عبارات سے صاف واضح ہوتا ہے جیسے ہمیشہ فاتح لوگ قلب ملک پر قابض ہو جاتے ہیں ایسے ہی ملائکہ اور وہ دیوتا جن کے سامنے یا جن پر آدم علیہ السلام خلیفہ بنائے گئے شیاطین پر فاتح تھے اور شیاطین ذلیل اور خوار ہو کر دُور دُور بلاد میں بھاگ گئے۔اور امام الائمہ حضرت سیدنا امام محمد باقر علیہ السّلام سے روایت ہے جیسے تفسیر کبیر میں لکھا ہے اس آدم علیہ السّلام سے پہلے ہزار دو ہزار آدم گذر چکے ہیں۔حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ فتوحات مکیہ کے باب حدوث الدنیا میں فرماتے ہیں ” میں ایک دفعہ کعبہ کا طواف کرتا تھا۔مجھے کچھ لوگ طواف کرتے ملے ان کی حالت سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ کوئی روحانی گروہ ہے۔اے خدا نے جنوں کو زمین میں ٹھہرایا پس اس پر ایک لمبا عرصہ تک رہے پھر ان میں حسد اور بغاوت پیدا ہوگئی چنانچہ انہوں نے زمین میں فساد کرنا شروع کر دیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انکی طرف فرشتوں کی ایک فوج ارسال کی انہیں جن کہا جاتا ہے اور وہ تاریکی کے خزانچی تھے۔ان کا جن نام جنہ سے مشتق ہے۔انکی سرکردگی ابلیس کر رہا تھا اور وہ ان کا سردار تھا۔(ناشر) مجاہد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ جن زمین میں تخلیق آدم سے دو ہزار سال قبل تاریکی کے فرزند تھے۔انہوں نے فساد فی الارض کیا اور خون بہایا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک لشکر ان کی طرف ارسال کیا چنانچہ انہوں نے ان کو اس قدر مارا کہ انہیں سمندروں کے جزائر میں جاننے پر مجبور کر دیا۔(ناشر)