حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 167

حقائق الفرقان ۱۶۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ور و کے بارے میں ارشاد ہے عطى ادم ربِّه فَغَوی (طه: ۱۲۲) لیکن جب فرشتوں نے کہا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ تو ان کو ڈانٹ بتائی کہ تم کون ہوتے ہو ایسا کہنے والے۔پس اُسْجُدُوا لادم تم آدم کو سجدہ کرو چنانچہ ان کو ایسا کرنا پڑا۔دیکھو خود تو عاصی اور غوی تک کہ لیا مگر فرشتوں نے بچوں کی تو اس کو نا پسند فرمایا۔میں نے کسی زمانے میں تحقیقات کی ہے کہ نبی کے لئے لازم نہیں کہ اس کے لئے پیشگوئی ہو اور خلیفہ کے لئے تو بالکل ہی لازمی نہیں دیکھو آدم۔پھر داؤد کے لئے کیا کیا مشکلات پیش آئے۔میں اس قسم کا قصہ گو واعظ نہیں کہ تمہیں عجیب عجیب قصے ان کے متعلق سناؤں مگر فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرِّ رَاكِعًا وَ أَنَابَ (ص:۲۵) سے یہ تو پایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تھا جس کے لئے یہ الفاظ آئے۔تیسرا خلیفہ ابوبکر ہے اس کے مقابلہ میں شیعہ جو کچھ اعتراض کرتے ہیں وہ اتنے ہیں کہ ۱۳۰۰ برس گزر گئے مگر وہ اعتراض ختم ہونے میں نہیں آئے۔ابھی ایک کتاب نئی نئی میں نے منگوائی ہے جس کے ۷۴۰ صفحات میرے پاس پہنچے ہیں۔اس میں صرف اتنی بات پر بحث ہے کہ مولیٰ علی رضی اللہ عنہ بہتر ہے یا ابوبکر۔پھر شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پیشگوئی نہیں فرمائی۔چوتھا خلیفہ تم سب ہو چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَليفَ فِي الْأَرْضِ (یونس : ۱۵) اگلی قوموں کو ہلاک کر کے تم کو ان کا خلیفہ بنا ديا لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس : ۱۵) اب دیکھتے ہیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ چار کا ذکر تو ہو چکا اب میں تمہارا خلیفہ ہوں۔اگر کوئی کہے کہ الوصیت میں حضرت صاحب نے نورالدین کا ذکر نہیں کیا تو ہم کہتے ہیں ایسا ہی آدم اور ابوبکر کا ذکر بھی پہلی پیشگوئی میں نہیں۔البدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۰۹ ، صفحه ۱۱،۱۰) سعیدوں کے ایک مورث اعلیٰ سعید کا قصہ قرآن کریم نے مکتر رعبرت کے لئے بیان کر کے مشاہدہ کرایا ہے کہ ہمیشہ برے بھلوں پر حملہ آور ہوتے رہے مگر انجام کا ربھلوں ہی کی فتحیابی ہوتی رہی اور اشقیاء ہمیشہ شقاوت کا نتیجہ پاتے رہے۔اس سعید کا نام آدم علیہ السلام تھا اس کا مورث اعلیٰ ہونا اے آدم نے نافرمانی کی اپنے رب کی تو اس کا گزران تنگ ہو گیا۔(ناشر) سے تو اُس نے حفاظت مانگی اپنے رب سے اور وہ تو بہ کرتا ہوا سجدہ میں گر پڑا۔( ناشر )