حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 166
حقائق الفرقان ۱۶۶ سُورَةُ الْبَقَرَة بد بخت کہاں سے پیدا ہو گیا ؟ میری تو ساری امیدوں پر پانی پھر گیا مگر آج میں دیکھتا ہوں کہ وہ بالکل لا ولد ہے نہ لڑکی نہ لڑکا اور پھر خدا کا ایسا فضل ہے کہ ایک باغ لگا دیا۔سو کسی قسم کا خلیفہ ہو اس کا بنانا جناب الہی کا کام ہے آدم کو بنا یا تو اُس نے ، داؤد کو بنا یا تو اُس نے ، ہم سب کو بنایا تو اُس نے۔پھر حضرت نبی کریم کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِم آمنا (النور: ۵۷) جو مومنوں میں سے خلیفے ہوتے ہیں ان کو بھی اللہ ہی بناتا ہے۔ان کو خوف پیش آتا ہے مگر خدا تعالیٰ ان کو تمنت عطا کرتا ہے۔جب کسی قسم کی بدامنی پھیلے تو اللہ ان کے لئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔جوان کا منکر ہواس کی پہچان یہ ہے کہ اعمال صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔جناب الہی نے ملائکہ کو فرمایا کہ میں خلیفہ بناؤں گا کیونکہ وہ اپنے مقربین کو کسی آئندہ معاملہ کی نسبت جب چاہے اطلاع دیتا ہے۔ان کو اعتراض سوجھا جو ادب سے پیش کیا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے کہا حضرت صاحب نے دعویٰ تو کیا ہے مگر بڑے بڑے علماء اس پر اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کہا وہ خواہ کتنے بڑے ہیں مگر فرشتوں سے بڑھ کر تو نہیں۔اعتراض تو انہوں نے بھی کر دیا اور کہا اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدّماء کیا تو اسے خلیفہ بناتا ہے جو بڑا فساد ڈالے اور خون ریزی کرے۔یہ اعتراض ہے مگر مولی ! ہم تجھے پاک ذات سمجھتے ہیں ، تیری حمد کرتے ہیں ، تیری تقدیس کرتے ہیں۔خدا کا انتخاب صحیح تھا مگر خدا کے انتخاب کو ان کی عقلیں کب پا سکتی تھیں۔الفضل جلد نمبر ۱۶ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) ایک خلیفہ آدم تھا اُس کی نسبت فرمایا ہے اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً۔اب خود ہی اس۔لے اللہ نے وعدہ کر لیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں ایماندار ہیں اور جنہوں نے بھلے کام کئے ہیں کہ ان کو ضر ور خلیفہ بنائے گا زمین میں جیسے کہ خلیفہ بنایا ان سے پہلے والوں کو اور بے شک ان کے دین کو مضبوط کرے گا ان کے لئے جس کو ان کے لئے پسند فرمالیا ہے۔اور ان کو خوف کے بدلے میں امن عنایت فرمائے گا۔(ناشر)