حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 168
حقائق الفرقان ۱۶۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة یہود کوتوریت سے اور عیسائیوں کو نیوٹسٹنٹ سے ظاہر ہے۔عرب کے لوگوں کو اپنی قومی اور ملکی روایت اور یہود اور عیسائیوں کے قرب سے یہ قصہ معلوم تھا اور غالب عمرانات کے لوگ آدم علیہ السلام کے اس دشمن کی بدحالت سے واقف تھے اور ظاہر ہے کہ تمثیل سے بہتر اور نتائج کے دکھانے سے زیادہ کوئی عمدہ ذریعہ روحانی اور اخلاقی تعلیم کے لئے نہیں ہو سکتا۔باری تعالیٰ نے ایک خاص ملک اور ایک خاص زمین میں آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا چاہا اور قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ آدم کو خلیفہ اور امام اور دینی ڈ نیوی بادشاہ بناوے۔اس ملک کے دیوتا اور سرون اور ملائکہ کو الہا ما آگاہ فرمایا کہ میں اس زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً - الارض کا الف اور لام اگر چہ عموم اور استغراق کے معنے بھی دیتا ہے مگر خصوصیت کے معنے بھی دیتا ہے۔ہر دو معنے اپنے اپنے موقع پر لئے جاتے ہیں۔یہاں آدم علیہ السلام کے ایک جگہ سے نکالے جانے اور دوسری جگہ چلا جانے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ جہاں آدم علیہ السلام خلیفہ بنائے گئے تھے وہ ایک خاص ملک تھا اور جہاں آدم پیچھے روانہ کئے گئے وہ اور ملک تھا اس لئے یہاں الف لام تخصیص کے معنے رکھتا ہے اور لفظ خلیفہ اور الارض کے معنے معلوم کرنے کے واسطے آیت ذیل کو پڑھنا چاہیے۔لے يدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ (ص: ۲۷) اس آیت میں لفظ خلیفہ اور لفظ الارض سے اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ الف و لام خصوصیت کے معنے دیتا ہے اور آگے چل کر لفظ جنت کی تحقیق میں ہم اور زیادہ تفصیل کریں گے۔تفاسیر میں لکھا ہے۔فَهِمُوا مِنَ الْخَلِيْفَةِ أَنَّهُ الَّذِى يَفْصِلُ بَيْنَ النَّاسِ مَا يَقَعُ بَيْنَهُمْ مِنَ الْمَظَالِمِ وَيَرُدُّ عَنْهُمُ الْمَحَارِمَ وَالْمَاثَمِ (قرطبی۔ابنِ کثیر زیر آیت البقرۃ:۳۱) وَ الصَّحِيحُ إِنَّهُ إِنَّمَا سُمَّى خَلِيفَةً لِأَنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ لِإِقَامَةِ حُدُودِهِ وَ تَنْفِيْنِ ے جب کہا تیرے رب نے ملائکہ کو کہ میں اس سر زمین میں ایک خلیفہ بنایا چاہتا ہوں۔کہ اے داؤد! ہم نے تجھ کو اس زمین میں خلیفہ بنایا سوٹو لوگوں میں حق حق فیصلہ دیا کیجیو۔سے لفظ خلیفہ سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے تنازعات با ہمی کو فیصل کرے اور نا کر دنی امور سے انہیں باز رکھے۔