حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 145 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 145

حقائق الفرقان ۱۴۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة طرح سوچ سمجھ لو اگر یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہو تو لے چلو۔انہوں نے عرض کیا کہ ہم حاضر ہیں۔عرب میں بہت سی آ گئیں جلاتے تھے۔ایک آگ نارالحرب کہلاتی ہے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے۔كُلما أوقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَاهَا اللهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا (المائدة: ۶۵) میں نے غور کیا تو معلوم ہؤ الڑائی آگ سے شروع ہوتی ہے چنانچہ پہلے دل میں ایک آگ اٹھتی ہے پھر وہی آگ تمام گھر میں پھیلتی ہے پھر دوسرے لوگوں کے ساتھ ملانے کے لئے ان کی دعوتوں کے لئے آگ جلانی پڑتی ہے پھر پہاڑ پر آگ جلا کر اس مہمانی کو وسیع کیا جاتا ہے۔پھر بارود کی آگ ہے، پوٹاس کی آگ ہے، توپ کی آگ ہے، ڈائنامیٹ کی آگ ہے۔پھر رسول سے جنگ کرنے والوں کا اخیر انجام دوزخ ہے کہ وہ بھی آگ ہے۔اس قدر تمہید کے بعد میں اس آیت کے معنے کرتا ہوں۔مدینہ میں جب آپ تشریف لائے تو اس وقت جو قوم تھی ان میں عبد اللہ بن ابی بن سلول ایک شخص تھا لوگوں نے ارادہ کیا کہ نمبر داری کی پگڑی اسے بندھا ئیں۔جن دنوں میں جلسہ نمبر داری کا ارادہ تھا نبی کریم آ گئے اور اس کی بات بگڑ گئی۔اُسے بہت رنج پیدا ہوا اور وہ اکثر موقعوں پر رنج نکالتا رہا لیکن کھل کر مخالفت نہ کر سکتا تھا۔اس طرز کے آدمی منافق کہلاتے ہیں یہ اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں۔پس ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے جلانا چاہا ہے آگ کو۔گویا نبی کریم کو بلوا کر سارے جہان سے جنگ کی ٹھانی۔جب جنگ کی آگ ارد گرد بھی بھڑک اُٹھی تو ان لوگوں کا نور معرفت جا تا رہا۔جب نار میں سے نور نکل جائے تو پیچھے اس کی تپش ، دھواں اور تکلیف رہ جاتی ہے۔اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے جب ان کا وہ نور جو حصہ ہے ایمان اور معرفت کا اور اللہ کو راضی کرنے کا ، جاتا رہا تو وہ اندھیرے میں پڑ جاتے ہیں۔اندھیرا بھی ایک نہیں بلکہ کئی اندھیرے جیسے کچھ رات کا اندھیرا پھر کچھ معا روشنی گم ہو جانے سے جو اندھیرا ہو جاتا ہے وہ۔پھر بادلوں کا اندھیرا۔پس وہ کچھ دیکھتے نہیں اور کچھ سوجھائی نہیں دیتا اور لے جب وہ سلگاتے ہیں لڑائی کی آگ تو اللہ اُس کو بجھا دیتا ہے اور کوشش کرتے ہیں ملک میں شرارت پھیلانے کی۔(ناشر)