حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 146
حقائق الفرقان ۱۴۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دکھائی کس طرح دے جب کہ تمیز باقی نہیں۔دل کمزور ہے اس لئے حق کے شنوا نہیں رہتے پھر حق کے گویا نہیں رہتے۔حق کے گویا بننے میں بڑے فائدے ہیں۔جب انسان دوسروں کو نیکی سمجھاتا ہے تو آخرا اپنی حالت پر بھی شرم آتی ہے کہ میں جو اوروں کو نصیحت کرتا ہوں خود میری اپنی حالت کیا ہے اور جب میں اپنی اصلاح نہیں کرتا تو دوسروں کی اصلاح کے لئے کیا کہہ سکتا ہوں۔اس لئے میرا پختہ اعتقاد ہے کہ انسان وعظ سنے اور وعظ کرے کہ اس سے بھی راہ حق ملتی ہے۔لیکن اس شخص کی حالت قابل رحم ہے جو نہ تو آنکھ رکھتا ہے جس سے رستے میں ہلاکت کی چیز کو دیکھ کر بچ سکے اور نہ کان ہیں کہ کسی ہمدرد کی آواز سن کر بچ جائے جو اُسے بتائے کہ دیکھو اس رستے نہ آؤ اور نہ زبان ہے کہ خود چلا کر کسی سے پوچھ لے کہ میاں فلاں مقام پر پہنچا دو اور وہ اسے پہنچا دے۔پس وہ جو نہ حق کا شنوا ہے نہ حق کا گویا نہ حق کا بینا ہلاکت کی طرف سے مڑکر نیک راہ پر نہیں آسکتا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۶،۵) ج ۲۰۔اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلمتَ وَ رَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ اَصَابِعَهُمْ فِي أَذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ - ترجمہ۔یا جیسے بادل سے برسات ہو جس میں گھٹا ٹوپ اندھیریاں اور گرج اور چمک ہے، وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھوس لیتے ہیں۔بجلیوں سے موت سے ڈر کر اور اللہ نے گھیر لیا ہے کافروں کو۔تفسیر۔آؤ۔دو چیزوں میں سے ایک کے لئے آتا ہے یعنی یہ یا وہ۔اور کبھی بمعنے بل یعنی کبھی اس کے معنے بلکہ کے ہوتے ہیں اور گا ہے بمعنی واؤ یعنی بمعنے اور آتا ہے۔پس اگر پہلے معنوں میں آئے تو گا ہے شک پیدا ہوتا ہے اور گا ہے ابہام و اجمال اور گا ہے تفصیل ہوتی ہے، خبر میں ، خواہ وہ تفصیل واقعی ہو یا متکلم کے اعتبار کے موافق ہو اور جب بمعنی واؤ ہو تو اس سے اباحت اور تخییر پیدا ہوتی ہے، انشاء میں ، اور یہاں پر دوامر میں سے ایک کے لئے ہے اور متکلم کے اعتبار کے مطابق تفصیل ہے۔صیب کہتے ہیں بارش کو۔یہ صوب سے بنایا ہوا ہے اور صوب کہتے ہیں نازل ہونے۔