حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 144

حقائق الفرقان ۱۴۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة آپ ضرور پہنچتے اور توحید کا وعظ فرماتے۔اس کے لئے سب سے عمدہ واعلیٰ موقع حج تھا جس میں آپ ایک ایک قبیلے کے جتنے میں وعظ فرماتے۔بڑے بڑے واقعات آپ کو پیش آئے۔ایک شخص مشہور عاقبت اندیش تھا۔اس نے کہا اگر ایک آدمی میرے قابو میں آجائے تو میں اس کے ذریعہ ساری دنیا کو فتح کر سکتا ہوں۔وہ نبی کریم صلعم کے پاس آیا اور کہا کہ اگر میری ساری قوم تمہیں مان لے تو مجھے کیا دو گے؟ آپ نے فرمایا میں کسی کو کیا دے سکتا ہوں۔میرے بعد خدا جانے کیا ہو۔اس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔اپنی قوم سے کہنے لگا۔ہے تو ایسا ہی مرد جیسا میں نے کہا تھا مگر میں اس پر ایمان لانے کا تمہیں مشورہ نہیں دیتا۔آپ انہی حج کے ایام میں منیٰ ایک مقام ہے وہاں وعظ فرما رہے تھے۔چھ آدمیوں نے جو مدینہ طیبہ کے رہنے والے تھے اشارہ کیا کہ ہم آپ سے علیحدہ کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ منی کے پاس پہاڑیوں کا ایک سلسلہ ہے جو چکر کھاتا ہوا جاتا ہے اس کے اندر ایک ٹیلہ ہے وہاں چبوترہ پر جا بیٹھے اور ان کو دین اسلام کی تلقین کی۔انہوں نے بیعت کی اور کہا کہ ابھی ہمارا نام نہ لیویں ہم جا کر مشورہ کریں گے اور آئندہ سال انشاء اللہ تعالیٰ اپنے بہت سے دوستوں کو بھیجیں گے چنانچه آئنده سال باراہ آدمی بھیجے اور تیسرے سال ۷۲ آدمی حاضر ہوئے اور حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ان چھ آدمیوں کی کوشش اور بارہ دوستوں کی کمر بستگی سے مدینہ میں کوئی گھر نہیں رہا جس میں آپ کا تذکرہ نہ ہو ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے شہر میں چلیں۔عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے گو وہ بظاہر مسلمان نہ تھے مگر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدرد تھے۔آپ نے فرمایا کہ دیکھو ان کو لے جانے میں تم کو بہت سخت مشکلات ہیں یہاں تمام منافی و ہاشمی آپ کے ساتھ ہیں مگر وہاں یہ بات نہیں۔اس پر انہوں نے بڑا بھاری معاہدہ کیا اور اس معاہدہ میں رسول اللہ نے اُن سے قسمیں لیں۔آپ نے فرمایا میرے مدینہ میں لے جانے کے یہ معنے ہیں کہ سارے جہان سے لڑائی کے لئے تم تیار رہو۔مکہ میں قریش دشمن ہیں پھر مسجد ، غطفان ، مصر کو ساتھ ملائیں گے پھر عراق و شام کے راستے کی قومیں ان کے ساتھ ہیں۔اچھی