حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 128
حقائق الفرقان ۱۲۸ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے کہ ضال لوگ کس طرح ہوتے ہیں؟ یہ بیان دو رکوع میں ہے۔چنانچہ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوا الضَّلَلَةَ بِالْهُدی (البقرۃ: ۱۷) فرما کر بتا دیا کہ یہ ضالین کا بیان ہے جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت کو مول لیا ہے۔اور اس سے اگلے رکوع میں يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۖ وَمَا يُضِلُّ بِه إِلا الْفُسِقِينَ (البقرة: ۲۷) فرمایا کہ ضالین وہ ہیں جو بدعہد ہیں۔غرض أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کا نام متقی، مغضوب کا نام لایو من۔ضالین کا ذکر ان دور کو عوں میں ہے۔اب ایک اور بات قابل سمجھنے کے ہے۔بہت سے لوگ پڑھے ہوئے یا ان پڑھ ایسے ہیں کہ انہوں نے غضب ڈھایا ہے کہ وہ عمل کو جزو ایمان نہیں مانتے۔وہ کہتے ہیں عمل ہو یا نہ ہو عقیدہ تو اچھا ہے۔بعض لوگوں نے تو یہاں تک اس میں غلو کر لیا ہے کہ وہ دعویٰ ایمان باللہ و بالآخرۃ کا کرتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہوتے۔”ما“ کے بعد جواب آئے تو معنے بالکل کے ہوتے ہیں۔یعنی بالکل مومن نہیں۔اب تم اپنی اپنی جگہ غور کرو کہ تمہارے اس دعوے کے ساتھ کہ ہم مومن ہیں، ہم احمدی ہیں ہم مرزائی ہیں، دلائل کیا ہیں؟ ایسا نہ ہو کہ تم کہو۔آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ (البقرة: 9) اور خدا تعالیٰ فرمائ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة:9) دیکھو! ایسے لوگوں کے لئے فرماتا ہے کہ ان کے افعال کو دیکھیں تو اللہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔کہیں مخلوق کا لحاظ ہے کہیں رسم و عادت کا کہیں دم نقد فائدے کا۔مگر انہوں نے اللہ کو کیا چھوڑنا ہے اپنے تئیں محروم کیا ہے۔فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ (ال عمران:۹۸) اور اس کا وبال ان کی اپنی جان پر ہے۔ہمارے نبی نے تو تصدیق کو بھی اعمال سے گنا ہے۔فرمایا النَّفْسُ تَمَلَى وَتَشْتَهِيَ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ (بخاری کتاب القدر) انسان کا نفس کچھ خواہشیں کرتا ہے جن کا علم کسی کو نہیں ہوتا اور شرمگاہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے نا کا می مول لی کامیابی بیچ کر۔۲ بہکاتا ہے اس سے بہتوں کو اور راہ پر لاتا ہے اس سے بہتوں کو اور وہ تو گم راہ نہیں کرتا اس سے کسی کو مگر بدکار ( گم راہ ہوتے ہیں )۔(ناشر) سے ہم نے اللہ اور قیامت کے دن کو مانا۔۴۔حالانکہ وہ ماننے والوں میں نہیں۔۵۔تو بے شک اللہ بے پرواہ ہے سب جہان سے۔(ناشر)