حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 129
حقائق الفرقان ۱۲۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس کی تصدیق کرتی ہے۔گویا عمل کا نام بھی تصدیق ہے۔غرض اعمال ایمان کا جزو ہیں۔الفضل جلد نمبر ۸ مورخه ۶ /اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) لقُوا ، لقی کی جمع ہے لِقاء سے، جس کے معنے قرب کے ہیں۔پس لَقِی کے معنے ہوئے قَرَبَ نزدیک ہوا اور لگوا کے معنے ہوئے وہ نزدیک ہوئے۔جیسا کہ قرآن مجید کے ایک اور مقام پر آیا ہے کہ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَنِ (ال عمران : ۱۹۷) ( جس دن قریب قریب ہوئیں دو جماعتیں ) اور اس کے معنے ملنے کے بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی قریب ہی ہے۔خَلَوْا، خَلی کی جمع ہے جس کے معنے ہیں مضی گیا۔جیسا کہا کرتے ہیں الْقُرُونُ الْخَالِيَةُ گذشتہ صدیاں۔اور جب خلا کے بعد باء آتا ہے تو اس کے معنے اکیلا ہونے کے ہوتے ہیں جیسا کہ خَلَوْتُ بِه ( میں اس کے ساتھ اکیلا ہوا)۔شیطن کے لفظ میں اختلاف ہے کہ یہ شَطَنَ سے ، یا شیط سے، پس اگر اول سے ہے تو اس کے معنے ہوئے بہت دُور ہونے والا کیونکہ شَطَنَ بمعنے بَعْدَ ( دُور ہوا) کے آیا ہے اور اگر دوم سے ہے تب اس کے معنے ہوئے ، بہت ہلاک ہونے والا اور بہت بطلان والا۔کیونکہ شیط ہلاکت اور بطلان کو کہتے ہیں اور ہر ایک سرکش چیز کو شیطان کہتے ہیں اور یہاں پر جو شیطینیم آیا ہے اس سے مراد ان کے سردار اور بڑے ہیں۔حضرت ابنِ عباس اور ابنِ مسعود اور اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کہ کفر میں ان کے سردار تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے کہ وہ کہیں گے کہ اِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السبيلا (الاحزاب : ۶۸) (بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی اطاعت کی تو انہوں نے ہم کو اس راستہ سے بہکا دیا ) اور انما اس خبر کے لئے آتا ہے جس سے مخاطب جاہل نہ ہو اور نہ اس کی صحت سے انکار کرتا ہو۔دلائل الاعجاز میں عبد القاهر جرجانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ہے اِستہزاء حقیر کرنے اور جانے اور اہانت کرنے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ ھری سے بنایا ہوا ہے اور هَزَئ کہتے ہیں ہلکا پن اور ملنے ہلانے کو۔چنانچہ کہا جاتا ہے ناقةٌ تهز ا ( اونٹنی تیز اور ہلکی چلتی ہے ) (رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۸۔فروری ۱۹۰۷ء صفحه ۳۰۹،۳۰۸)