حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 127
حقائق الفرقان دوسرا گروہ ۱۲۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پھر دوسرے گروہ کی صفات بیان کیں کہ ان کے لئے تذکیر و عدم تذکیر مساوات کا رنگ رکھتی ہے۔وہ سنتے ہوئے نہیں سنتے۔ان میں عاقبت اندیشی نہیں ہوتی ضم بگم ہوتے ہیں پھر انہی کی نسبت اخیر قرآن میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو مَا كَسَب یعنی جتھا اور مال دونوں پر بڑا گھمنڈ ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ دونوں کو غارت کر دیتا ہے۔منافقین پھر تیسرے گروہ ضالون کا ذکر فرمایا کہ ان کو صفات الہی کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان میں نہ تو قوت فیصلہ ہوتی ہے نہ تاب مقابلہ۔قرآن شریف کے ابتداء کو آخر سے ایک نسبت ہے۔پہلے مُفْلِحُونَ فرمایا ہے تو اِذَا جَاءَ نَصُرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ میں اس کی تفسیر کر دی اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی تبت يدا أبي لَهَبٍ وَتَب میں اور ضالین کا رَدّ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ میں کر دیا ہے۔غرض عجیب ترتیب سے ان تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ان سب کی صفات بیان کر کے میں تمہیں مکر نصیحت کرتا ہوں کہ تم سوچو مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ میں سے ہویا مَغْضُوبِ عَلَيْہم میں۔۔۔یا ان لوگوں میں جن کو ضالین کہا گیا ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۵۲ مورخه ۲۱/اکتوبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۰) الحمد میں تین قوموں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک منعم علیہم۔دوم مغضوب علیہم۔مغضوب کا فاعل نہیں بیان کیا۔کیونکہ ان پر خالق بھی غضبناک ہے اور مخلوق بھی۔سوم ضالین کا۔اب اس کی تفصیل میں پہلے رکوع میں منعم علیہم کا بیان کہ وہ ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔مقیم الصلوۃ ہوتے ہیں - مُنْفِقُ فِي سَبِيلِ اللهِ ہوتے ہیں۔مومن بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ہوتے ہیں اور مومن بالآخر - اس کے بعد مغضوبوں کا ذکر کیا کہ ان کے دل حق کے شنوا زبان حق کی گویا نہیں ہوتی اور بہرے اندھے تکالیف کے لحاظ سے عذاب میں ہوتے ہیں۔اس لئے فرمایا وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرة: ۸) اب فرماتا لے اور اُن کے لئے بڑا عذاب ہے۔