حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 88
(المنافقون:۸)( یہ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو ان پر جو رسول اﷲ کے پاس ہیں تاکہ وہ پراگندہ ہو جاویں) اور نفس کہتے ہیں ذات اور حقیقت اور عین شئے اور رُوح اور قلب اور خون اور پانی اور جسم اور حَشم اور عظمت اور عزّت اور ہمّت اور اکڑبازی اور فراخی اور تروتازگی اور کلامِ طویل کو اور بمعنے پاس بھی آتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے (المائدہ:۱۱۷)(تُو جانتا ہے اس کو جو میرے پاس ہے اور مَیں اس کو نہیں جانتا جو تیرے پاس ہے) اور علماء نے کہاہے کہ یہ اجسام کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ خداوند تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے جو کہ جسم سے پاک اور منزّہ ہے جیسا فرمایا ہے ( الانعام:۵۵)(تمہارے رَبّ نے اپنے نفس پر ( یعنی اپنے پر رحمت مقرر کی ہے) اور فرمایا(اٰلِ عمران:۲۹) ( اور اﷲ تم کو اپنے نفس سے ڈرا کر بچانا چاہتا ہے ) پس معنے یہ ہوئے وہ چھوڑتے ہیں اﷲ اور مومنوں کو۔حالانکہ وہ نہیں بخل کرتے مگر اپنی جانوں پر …منافقوں نے اپنے جانوں کو اﷲ کریم کی راہ میں خرچ کرنے سے روکا۔پس اس سے انہوں نے اپنے نفسوں کو اس عزّت و نصرت اور رزق و فلاح سے محروم کر دیا کہ جس کا خداوند کریم نے اﷲ کے راستہ میں صَرف کرنے والوں کو وعدہ فرمایا ہؤا تھا جیسا کہ اس نے فرمایا ہے (المنافقون:۹)(اور اﷲ ہی کے لئے عزّت ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے لیکن منافق لوگ نہیں جانتے) اور فرمایا(المؤمن:۵۲) (ضرور ہم مدد دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور مومنوں کو دُنیا میں ) اور فرمایا (البقرۃ:۲۶)(جب کبھی رزق دیا جائے گا ان کو ( مومنوں کو) اس سے )… منافق لوگ لَآاِ لٰہَ اِلَّا اﷲُکا اظہار کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے مال و جان کو حفاظت میں کرلیں۔پس منافق لوگ کشتی کے کناروں کی مانند ہوتے ہیں جب اور جس طرف ہَوا چلتی ہے تو اس وقت اور اسی طرف کشتی بھی چل پڑتی ہے اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ انفسؔ سے یہاں پر وہی مراد ہو جو کہ(النّور:۱۳)( کیوں نہ مومنوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ میں اچھا گمان کیا) اور(اٰلِ عمران:۶۲) ( ہم پکاریں اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنے آپ کو اور تم کو) میں ہے اور کوئی اَور معنے انفسؔ