حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 87
اس کے بندوں سے قطع تعلق کر لیا تو تعلق سے جو فوائد حاصل ہوتے تھے اُن سے وہ محروم ہو گئے۔محرومی نفاق کا نتیجہ ہے۔َ۔ان میں شعور نہیں۔شعور ایک حیوانی صِفت ہے۔اﷲ تعالیٰ یہاں منافقوں کو شرم دلاتا ہے کہ تم تو حیوانات سے بھی گئے گذرے ہوئے ہو ان میں شعور ہوتا ہے تم اس سے بھی محروم ہو۔ہمیشہ اِس امر کا خیال رکھو کہ کلمہ جو مُنہ سے نکالتے ہو اس کا تعلق دل اور زبان دونوں سے ہو اور تمہارا ہر ایک عمل اس کی تصدیق کرتا ہو۔(بدر ۲؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱۱) خَادَعَ کے معنے ترک کرنے کے ہیں پس جہاںہے وہاں ’’ وہ چھوڑتے ہیں اﷲ کو‘‘ ترجمہ کیوں نہیں کرتے۔خَدَعَ کے معنے ہیں اَمْسَکَ۔اور عرب کا محاورہ ہے فُلَانٌ کَانَ یُعْطِیْ فَخَدَعَ فلانا دیتا تھااب اُس نے دینا چھوڑ دیا۔پس َ(النسآء:۱۴۳)کے معنے یہ کیوں نہیں کرتے کہ اﷲ منافقوں کو محروم رکھنے والا ہے۔اِسی طرح تمام الاشیاء والنظائر میں ایسا ہی برتاؤ کرو اور مثلاً (الضٰحی:۸)میںضلال کا اثبات نبیٔ کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کے لئے ہے مگر(النجم:۳)میں ضلال کی نفی بھی آپ کے حق میں موجود ہے۔تو دونوں پر ایمان لا کر ایک جگہ ضلال کے معنے محبّ ،طالب،سائل کے کرو جو (الضٰحی:۱۱)کی تر تیب سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری جگہ گمراہ کے معنے کروجو وما غوی کے مناسبت سے درست ہیں۔(نورالدین،دیباچہ صفحہ ۱۰،۱۱) ،مُخَادِعَۃُسے ہے اور مُخَادِعَہُ کے معنے ہیں ترک کے۔پس کے معنے ہوئے یَتْرُکُوْنَ اﷲَ(وہ چھوڑتے ہیں اﷲ کو) جیسا کہ ایک دوسرے محل پر آیا ہے َ(التوبہ:۶۷) (چھوڑ دیا انہوں نے اﷲ کو) کیونکہ اس کے مقابل اﷲ عزّوجلّ کی نسبت بھی نَسِیَھُمْ آیا ہے اور اس کے معنے بُجز ترک کے اَور کچھ نہیں ہیں اوریُخٰدِعُوْن ،خَدَعَ سے ہے اور خَدَعَکے معنے امساک یعنی رُکنے اور بُخل کے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے فُلَانٌ کَانَ یُعْطِیْ فَخَدَعَ(فلاںدیا کرتا تھا لیکن اَب دینے سے رُک گیا ہے اور بُخل کرتا ہے)اور منافقوں میں یہ وصف تھا جیسا کہ خداوندِ علیم نے اَور محل پر بیان فرمایا ہے کہ( التوبہ :۷۶) ( پس جب اﷲ نے اپنے فضل سے ان کو دیا تو بُخل کرنے لگے ( یا) انہوں نے بُخل کیا ) اور فرمایا