حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 89 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 89

سے یہاں پر نہ لئے جاویں تو اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ منافق لوگ دعوٰی کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور پھر وہ خود ہی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور مومنوں پر خرچ کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خَدَعَ فساد کو بھی کہتے ہیں تو اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ وہ نہیں بگاڑتے مگر اپنی جانوں کو … اور شعورؔ اس علم کو کہتے ہیں جو کہ بذریعہ حو اس یعنی آنکھ، کان وغیرھما کے حاصل ہو۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان بابت فروری ۱۹۰۷ء)  (البقرۃ: ۱۱) ان کے دِلوں میں ایک مرض ہے تو اﷲ نے ان کے اس مرض کو بڑھنے دیا اور ان کیلئے دُکھ دینے والا عذاب ہے بہ سبب اس کے کہ وہ جُھوٹ بولتے تھے۔مرض کا بڑھنا اِس لئے فرمایا کہ جب تھوڑے سے مسئلوں میں اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تو پھر جب یہ مسئلے بہت بڑھ جائیں گے تو یہ کمزوری اَور بھی بڑھے گی۔پس یہ مرض روزافزوں ہے۔اسی طرح جب چھوٹی سی جماعت کے سامنے حق بات نہیں کہہ سکتا تو بڑی جماعت کے سامنے تو اَور بھی جُھوٹ بولے گا اور یہی باتیں اُس کے لئے دُکھ دینے والی ہو جائیں گی۔آخرت کا عذاب تو ہے ہی مگر منافق کے لئے دُنیا میں بھی یہ کم عذاب نہیں۔زَادَھُمُ اﷲُپر مفسّروں نے بہت اختلاف کیا ہے کہ جب یہ امرِواقعہ ہے تو اس پر اختلاف کیسا۔یہ سب کچھ نتیجہ ہے جُھوٹ بولنے کا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۱؍فروری ۱۹۰۹ء) نفاق ایک قلبی مرض کا نام ہے۔اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کے مریض میں قوّتِ فیصلہ بہت کمزور ہوتی ہے اور اُسے کسی کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہوتی۔ابتداء میں جبکہ اِسلام کی جمعیّت کم تھی اور مسائل تھوڑے تھے تو ایسی حالت میں جب ان کو جُھوٹ اور مداہنہ سے کام لینا پڑا حالانکہ اُس وقت اَدنیٰ سے اَدنیٰ انسان بھی مقابلہ کرتا تھا۔تو جب اِسلام کی جمعیّت ترقی کرے گی اور مسائل بڑھتے جاویں گے تو اپنی اِس کمزوری کی وجہ سے ہر ایک