حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 86

دونوں طرفوں کو گانٹھ رکھا ہے لیکن درحقیقت منافق بڑا کمزور ہوتا ہے اس میں نہ قوّتِ فیصلہ ہوتی ہے نہ تابِ مقابلہ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍فروری ۱۹۰۹ء) …سچّی اخلاص اور محبّت اور اطاعت سے جو نتائج پَیدا ہوتے ہیں وہ صرف زبانی باتوں اور ریاکاری کے اعمال سے حاصل نہیں ہو سکتے۔اگر صرف زبانی قول پر نجات کا مدار ہوتا تو پھر قول تو منافقوں کا بھی اﷲ تعالیٰ نے نقل کر کے دکھایا ہے بلکہ وہ ایسے قول سے بجائے نجات کے عذاب کے حقدار بن گئے۔ایک ہی قول ہے کہ ایک ایسے شخص کے زبان سے نکلتا ہے جس کا دِل اور زبان ایک ہے نیّت میں اِخلاص ہے۔اسی قول سے وہ واصل اِلی اﷲ اور باری تعالیٰ کا مقرّب ہو تا ہے۔وہی ایک قول ہے جو کہ ایسے شخص کی زبان سے نکلتا ہے جس کا قلب اور زبان ایک نہیں ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے بُعد اور قطع تعلق کا باعث ہوتا ہے۔خدا اور یَومِ آخر پر ایمان کا اصل نتیجہ کیا تھا کہ خدا سے تعلّقات بڑھتے اور اس کے انعامات اور اکرام کا مورَد وہ ہوتا مگر اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقوں نے اس کا الٹا پھل پایا یعنی ترقی ٔمعکوس۔کہ بجائے قریب ہونے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے اَور دُور ہوتے گئے اور ان کے نفسوں کو دھوکا لگا۔ کے معنے یَتْرُکُوْنَ یعنی چھوڑتے ہیں اور یُخٰدِعُوْنَ کے معنے محروم کر لیتے ہیں۔عام ترجموں میں جو اس کے معنے فریب اور دھوکہ دینے کے کئے جاتے ہیں ان کی تصدیق قُرآن کی کِسی آیت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ قاموس وغیرہ لُغت کی کتب میںخَادِعَہ‘ کے معنے تَرَکَہ‘ لکھے ہیں۔قرآن سے بھی اِن معانی کی تصدیق ہوتی ہے جیسے سورۃ النسآء میں ہے(النسآء :۱۴۳)یعنی منافق خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور خدا ان کو چھوڑتا ہے۔خدا کو چھوڑ دینے کے یہ معنے ہیں کہ اس کے اوامر اور نواہی کی پرواہ نہ کرنی۔بعض وقت ایک انسان مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے اور اس وقت شکایت کرتا ہے کہ خدا اس کی مدد ۔خَدَعَ کے معنے اَمْسَکَ کے ہیںیعنی یہ لوگ نہیں روک سکتے فوائد سے یا نہیں بُخل کرتے یا نہیں محروم رکھتے مگر اپنی جانوں کو۔جب اﷲ تعالیٰ اور