حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 85 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 85

چنانچہ قُرآن کریم کے شروع میں ہی لکھا ہے (البقرۃ:۹) ایسے لوگ اﷲ پر ایمان لانے اور آخرت پر ایمان لانے کے زبانی دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے دِل مومن نہیں ہوتے۔اِسی لئے باوجود اسکے کہ وہ اﷲ پر اور یَومِ آخرت پر ایمان لانے کا دعوٰی کرتے ہیں مگر اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مومنوں میں سے نہیں سمجھتا۔وہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہم کو اﷲ پر اور آخرت پر ایمان ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اﷲ کے نزدیک مومن نہیں۔(الحکم ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ۱۱)  وہ اﷲ کو چھوڑتے ہیں اور ان کو جو ایمان لائے حالانکہ وہ تو اپنے نفسوں ہی کو ( دراصل) محروم کرتے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کا کچھ شعور نہیں رکھتے۔کاترجمہ ’’ دھوکہ دیتے ہیں ‘‘ کریں تو اس میں بہت سی مشکلات ہیں اِس لئے میرے نزدیک اس کے معنے ’’ ترک کرتے ہیں‘‘ صحیح ہے۔ان لوگوں نے اﷲ کو چھوڑا تو اس کا خمیازہ یہ اُٹھایا کہ اپنے آپ کو محروم کر لیا۔عبداﷲ بن ابیّ بن سلول ایک شخص تھا وہ بھی انہی ’’ ‘‘میںسے تھا۔نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم ایک مجلس میں وعظ کہنے لگے۔اس روز بہت جھکّڑ تھا سواری میں غبار جو اُٹھا تو اس نے رومال اپنے مُنہ پر رکھ لیا اور کہا باتیں تو اچھی ہیں اگر گھر ہی سُناتے تو اچھا تھا یہاں ہم کو تکلیف ہو رہی ہے۔اس پر صحابہؓ میں بہت گفتگو ہوئی۔ایک صحابیؓ نے عرض کیا اس سے درگزر کر دیں۔پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ اسے اپنا بادشاہ بنا لیں یُتَوِّجُوْہُ وَ یُوَصِّبُوْہ‘ یعنی تاجِ شاہی اس کے سَر پر رکھ دیں اور نمبرداری کی پگڑی اسے بندھادیں مگر اب کُھل گیا کہ یہ شخص اِس قابل نہیں۔اس نے اپنے تئیں ذلیل کر لیا۔دیکھو وہ پھر کیسا تباہ ہؤا۔مومنوں کے سامنے ہلاک ہؤا اور اس نے کوئی شرف نہ پایا۔منافق اپنے تئیں بڑا ہوشیار سمجھتا ہے اور اسے یہ خیال ہوتا ہے کہ مَیں بڑا دانا ہوں کہ