حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 6
سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃِ مَکِّیَّۃٌ تمہید اِس سُورۃ شریف کی بہت سی تفاسیر لوگوں نے لکھی ہیں۔ہمارے گھر میں اِس سورۃ کی ایک قلمی تفسیر باریک لکھی ہوئی ساٹھ جُزو کی تھی۔حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ و السّلام نے تین مبسُوط تفسیریں اِس سورۃ شریف پر لکھی ہیں جن میں سے ایک اُردو میں ہے اور کتاب براہین احمدیہ میں ہے اور دو عربی میں ہیں۔ایک کا نام ’’ کرامات الصّادقین ‘‘ ہے اور دوسری کا نام ’’ اعجاز المسیح ‘‘ ہے۔وہ بڑا خوش قِسمت ہو گا جس کو اﷲ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ کم از کم اِن تین تفاسیر کا مطالعہ کرے۔میں اِس امر کی طرف تم کو خاص توجّہ دلاتا ہوں۔جو عربی نہیں جانتے وہ کم از کم اُردو کو پڑھ لیں۔عبدہٗ مصری نے بھی ایک کتاب سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں الگ لکھی ہے اورایک ضخیم کتاب سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں صدر الدین قنوی نے لکھی ہے۔فاتحہ خلف الامام بچپن سے لے کر اِس بڑھاپے تک جو کچھ مَیں نے تحقیقات کی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے خواہ انسان الگ نماز پڑھتا ہو خواہ جماعت کے ساتھ کسی امام کے پیچھے پڑھ رہا ہو ہر دو صورتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہیئے۔(حضرت مسیح موعودؑ کا ہی یہی عمل درآمد تھا۔ایڈیٹر) تعداد رکعات چونکہ سورۃ فاتحہ کا ہر رکعت میں پڑھنا ضرری ہے اِس واسطے ایک مسلمان دن رات میں سورۃ فاتحہ عموماً ۸۰ بار پڑھتا ہے یا کم از کم ۴۰ بار۔کیونکہ رکعات کی تفصیل یہ ہے :۔