حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 5
حالانکہ یہ وہ کام ہے جو ہمارے مُلک میں تو میراثی کرتے ہیں اس کے مقابل میں قرآن مجید شروع ہوتا ہے سے۔یہ وہ آیت ہے جس سے تمام مذاہب کا رَدّ ہوتا ہے۔نہ یسوعیوں کا خداوند اقنومِ ثالث رہ سکتا ہے نہ رحم بلا مبادلہ کے بہانے کسی بے گناہ کو پھانسی چڑھانا پڑتا ہے اور نہ آریوں کا مادہ جو رُوح اَزلی اَبدی بن سکتا ہے نہ تناسخ والوں کی کوئی دلیل باقی رہتی ہے۔نہ سو فسطائیوں کو آنے کی تاب ہے اور نہ برہموؤں کو مسئلہ الہام میں تردّدرہ سکتا ہے اور نہ شیعہ صحابہ کرامؓپر اعتراض کر سکتے ہیں نہ دہریہ کسی حُجّتِ نیرّہ کی بنا پر خدا کی ہستی کے مُنکر رہ سکتے ہیں۔یہ تو ایک آیت کے متعلق ہے اگر سات آیتیں پڑھی جاویں تو پھر تمام مذاہب کی صَداقتوں کا عطرِ مجموعہ اس میں ملتا ہے اور دُنیا کے آخر تک پیش آنے والے دینی اہم واقعات کی خبر اس میں موجود ہے۔ان تمام مفاسد و عقائدِ فاسدہ کا ابطال ہے جو دُنیا میں پیدا ہوئے یا ہو سکتے ہیں اور ان اعمالِ صالحہ و عقائدِ صحیحہ کا تذکرہ ہے جو انسان کی روحانی و جسمانی ترقّیات کے لئے ضروری ہے۔اِسی طر ح انجیل کا اخیر دیکھو اس میں لکھا ہے کہ یسوع جو خداوند کہلاتا ہے اپنے دشمنوں کے قبضہ میں آ گیا اور اُس نے اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَانِیْ(یعنی اے میرے خدا ! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ) کہتے ہوئے اپنی جان دی۔برخلاف اِس کے قرآنِ مجید ختم ہوتا ہے اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔۔۔ ۔قرآنِ مجید پڑھنے والا۔قرآن شریف کا متّبع بڑے زور سے علی الاِعلان دعوٰی کرتاہے مَیں اس خدا کی پناہ میں ہوں جو تمام انسانوں کو پَیدا کرنے والا اور پھر انہیں کمال تک پہنچانے والا ہے۔وہ سب حقیقی بادشاہ حقیقی معبود ہے۔اَللّٰہُ اَکْبَر : ایک معمولی تھانیدار یا صاحبِ ضِلع بلکہ نمبردار اور پٹواری کی پناہ میں آ کر کئی لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں پس کیا مرتبہ ہے اُ س شخص کا جو تمام جہان کے ربّ اور بادشاہ اور سچّے معبود کی پناہ میں آ جائے۔صرف اِس کتاب کا اوّل و آخر ہی اسلام اور عیسائیّت میں فیصلہ کُن ہے اگر کوئی خدا ترس دِل لے کر غور کرے۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۹ صفحہ ۳۵۳، ۳۵۴)