حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 7
فجر : سُنّت ۲۔فرض۲ = میزان پانچ نماز:۴۴ ظہر : سُنّت ۴۔فرض۴۔سُنّت ۴ = ۱۲ ا شراق : ۲ ضحٰی:۸ عصر : سُنّت ۴۔فرض ۴ = ۸ تہجّد:۸ کُل میزان: ۶۲ مغرب:فرض ۳۔سُنّت ۲۔نفل ۲ = ۷ زوال: ۴ تحیۃالوضو:۶ عشاء : فرض ۴۔سُنّت۴۔وتر ۳۔نفل ۲ =۱۳ تحیۃالمسجد: ۶ اگر اشراق اور اوّابین کے نوافل انسان نہ پڑھ سکے اور ایسا ہی ظہر۔مغرب اور عشاء کے نوافل بھی نہ پڑھ سکے اور ظہر اور عصر اور عشاء کی سُنّتیں بجائے چار کے دو پڑھے تو تہجّد ملا کر پھر بھی ۴۰ رکعتیں ہو جاتی ہیں۔سُنّتوں کی تاکید بڑے بڑے تجربہ کاروں کا قول ہے کہ جو لوگ مستحب کے ادا کرنے میں سُستی کرتے ہیں وہ رفتہ رفتہ سُنّتوں کے تارک ہو جاتے ہیں اور جو لوگ سُنّتوں کے تارک ہوتے ہیں وہ رفتہ رفتہ فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں اور فرائض سے غافل ہونے والے کے واسطے فتوٰے سخت ہے۔ایک غلطی کا ازالہ حضرت صاحب(مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃوالسّلام)کی عادت تھی کہ آپ فرض پڑھنے کے بعد فوراً اندرونِ خانہ چلے جاتے تھے اور ایسا ہی اکثر مَیں بھی کرتا ہوں۔اِس سے غالبًا بعض نادان بچّوں کو بھی غالباً یہ عادت ہو گئی ہے کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد فوراً مسجد سے چلے جاتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ پھر وہ سُنّتوں کی ادائیگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ حضرت صاحب(مرحوم و مغفور) اندر جا کر سب سے پہلے سُنّتیں پڑھتے تھے اور ایسا ہی مَیں بھی کرتا ہوں۔کوئی ہے جو حضرت صاحب کے اِس عمل در آمد کے متعلق گواہی دے سکے؟ (اس پر صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو حسب العادت مجلس درس میں تشریف فرما تھے کھڑے ہوئے اور بآوازِ بلند کہا کہ بیشک حضرت صاحب کی ہمیشہ عادت تھی کہ آپ مسجد جانے سے پہلے گھر میں سُنّتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور باہر مسجد میں فرض ادا کر کے گھر میں آتے تو فوراًسنّتیں پڑھنے کھڑے ہوتے اورنمازِ سُنّت پڑھ کر پھر اَور کوئی کام کرتے۔ان کے بعد صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی یہی شہادت دی اور ان کے بعد حضرت