حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 72 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 72

دوبارہ اس حُسن و اَدا کو دیکھتا ہے پھر کوئی خط و خال پسند آیا اور محبت نے غلبہ کیا تو آہستہ آہستہ اس کے کُوچہ اور گلی میں جانے کا شوق پَیدا ہوتا ہے جس پر اس نے بَد نظری کی تھی اور اگر ملاقات کا اِتفاق ہؤا تو ہاتھ، زبان، آنکھ اور خدا معلوم کِن کِن اعضاء سے وہ معصیّت میں مبتلا رہتا ہے یہ نتیجہ کِس بات کا تھا۔اس اوّل معصیّت کا جو اس نے بَد نظری کے اِرتکاب میں کی۔اِسی طرح جو لوگ بَدصحبتوں اور بَد مجلسوں میں جاتے ہیں صرف وہاں جانا ایک خفیف سا فعل نظر آتا ہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے انہیں بَدصحبتوںسے چور،ڈاکو،فاسق،فاجر اور ظالم وغیرہ بن جاتے ہیں اور پھر اِن باتوں کے ایسے خُوگر ہو جاتے ہیں کہ اگر کوئی خود بھی ان میں سے چھوڑنا چاہے تو مشکل سے چھوڑ سکتا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا ایک قانون یہ ہے کہ جب اِنسان ایک فعل کرے تو اس پر دوسرا فعلِ الہٰی بطور نتیجہ کے وارد ہوتا ہے جس طرح جب ہم ایک کوٹھڑی کے دروازے بند کرتے ہیں تو ہمارے اِس فعل پر دوسرا فعلِ الہٰی یہ ہوتا ہے کہ وہاں اندھیرا ہو جاتا ہے اِسی طرح سے انسان سے جو اعمال ایمان اور کفر کے لحاظ سے صادر ہوتے ہیں ان پر ایک فعلِ الہٰی یا قہرِخداوندی بھی صادر ہوتا ہے جس کا ذکر اس اگلی آیت میںہے۔(البدر ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۹، الحکم ۲۴؍جون ۱۹۰۴ء،الفضل۳۰؍جولائی ۱۹۱۳ء) چونکہ وہ لوگ اوّل انکار کر چکے تھے اِس لئے سخن پروری کے خیال نے ان کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور آپ کی باتوں پر غور کرنے نہ دیا اور انہوں نے آپ کے اِنذار اور عدمِ اِنذار کو برابر جانا۔اِس کا نتیجہ کیا ہؤا۔ یعنی ہمیشہ کے لئے ایمان جیسی راحت اور سروربخش نعمت سے محروم ہو گئے۔یہ ایک خطرناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے اِنذار اور عدمِ اِنذار کی پرواہ نہیں کرتے۔ان کو اپنے علم پر ناز اور تکبّر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتابِ الہٰی ہمارے پاس بھی موجود ہے ہم کو بھی نیکی بدی کا عِلم ہے یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں۔اِن کم بختوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ یہود کے پاس تو تورات موجود تھی اس پر وہ عمل در آمد بھی رکھتے تھے۔پھر ان میں بڑے بڑے عالم،زاہد اور عابد موجود تھے پھر وہ کیوں مردُود ہو گئے؟ اِس کا باعث یہی تھا کہ تکبّر کرتے تھے، اپنے عِلم پرنازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالیٰ اسلمؔکے لفظ سے چاہتا ہے ان میں نہ تھی۔ابراہیم علیہ السلام کی طرزِ اطاعت ترک کر دی۔یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السّلام اور اس رحمۃ للعالمین نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ماننے سے جس سے توحید کا چشمہ جاری ہے ماننے باز رکھا۔(الحکم۲۴؍فروری ۰۵ـ۱۹ء)