حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 71
غرض جب خدا نے مخلوق کو پَیدا کیا اور اس پر اپنا کمال رحم کیا کہ اس کے فائدے کی اشیاء اس کے لئے بنائیں جس سے اس کے وجود کا قیام اور دفعیہ حوائج ہوتا رہتا ہے۔تو جس حالت میں اس نے ہدایت کے واسطے مجبور نہ کیا تو کفر اور ضلالت کے واسطے کیوں مجبور کرتا اور نیک اعمال کی بجاآوری پر رضا مندی اور بَد اعمالی پر نارضامندی کا کیوں اظہار کرتا۔۔قبل ازیں یہ بات تھی کہ ایک صادق صداقت لے کر آیا اور اس کا ان لوگوں نے کفر یعنی انکار کیا۔اب دوسری بات یہ کی کہ اس انکار کے بَد نتائج جو ایک صادق آ کر بیان کرتا ہے ان کو لوگ بیہُودہ اور لغو جان کر اس کے وجود کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ اگر تُو مبعوث ہوتا تو کیا اَور نہ مبعوث ہوتا۔تو کیا اس کی بعثت سے پہلی حالت جو ان لوگوں کی ہوتی ہے بعثت کے وقت اس میں کچھ تغیّر نہیں کرتے اِس لئے خدا تعالیٰ ان کو ایمان لانے کی توفیق بھی عطا نہیں کرتا۔اِس لئے خدا تعالیٰ نے بطور نتیجہ کے آگے بیان کیا ہے کہیہ لوگ ایمان نہ لاویں گے کیونکہ ایمان تو مان لینے کا نام ہے۔مگر جب انہوں نے ایک شخص کے وجود اور عدمِ وجود کو ہی برابر جانا تو ایمان لانا کیسا۔ایمان تو بعد شنید اور بعد ارادہ اتّباع کے ہوتا ہے۔خوب یاد رکھو کہ اِس آیت میںدواسباب بیان کئے ہیں جن کا نتیجہ ہؤا کرتا ہے کہ ایک صادق کے ماننے کی توفیق نہیں مِلا کرتی۔ایک تو انکار دوسرے اس کے وجود اور عدم وجود یا اِنذار اور عدم اِنذار کو برابر جاننا۔اب بھی جو لوگ مُنکر ہیں اور پھر اپنے انکار پر چلے آتے ہیں اس کا باعث یہی ہے۔بعضوں کا اِنہماک تو دُنیاوی اشغال کی طرف اِس قدر ہے کہ ان کو خبر ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو کیوں پَیدا کرتا ہے۔اگر کِسی نے نام سُن بھی لیا تو پھر اِس امر کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ تحقیق و تفتیش کر کے اس کا جھُوٹایا سچّا ہونا تو دیکھ لیں۔اِس قِسم کے لوگ دَولتِ ایمان سے محروم رہتے ہیں۔نتائج عمل یہ دُنیا جائے اسباب ہے اور ہم رات دِن مشاہدہ کرتے ہیں کہ جیسے ایک نیک عمل کے بجا لانے سے دوسرے نیک عمل کی توفیق مِلتی ہے اسی طرح ایک بَدی کرنے سے دوسری بدی کرنے کی جرأت بھی پیدا ہوتی ہے۔مثلاً دیکھو انسان جب اوّل بَد نظری کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ