حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 73

  ختمؔ کہتے ہیں چھاپے کے ساتھ چھاپہ لگانے کو اور اس اثر کو جو کہ چھاپہ لگانے سے حاصل ہوتا ہے اور حفاظت اور آخر تک پہنچنے کو۔اور قُلُوْبٌ قلب کی جمعہے اور قلبؔ کہتے ہیں دل کو۔اور دل کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ فون کو قلب کرتا ہے کیونکہ وہ ایک جانب سے لیتا ہے اور دوسری طرف سے بدن کی طرف بھیجتا ہے یا اس کے تقلُّب کے لئے کیونکہ وہ قرار نہیں پکڑتا۔اور اِسی وجہ سے آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے فرمایا ہے اَلْقَلْبُ بَیْنَ اِصْبَعَی الرَّحْمٰنِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ شَآئَ(دِل رحمن کی دو اُنگلیوں کے درمیان ہے اُلٹاتا ہے اس کو جیسا کہ چاہتا ہے) (رسالہ تعلیم الاسلام ماہ جنوری ۱۹۰۷ء) (البقرۃ:۸) ھمْ کا لفظ یہاں تین بار آیا ہے اور یہ ضمیر جمع مذکّر غائب کی ہے جس کے معنے ہیں’’ وہ لوگ‘‘ پس معلوم ہؤا کہ یہ ذکر ایسے لوگوں کا ہے جن کا پہلے کوئی ذکر آچکا ہے اِس لئے ’ھُمْ‘‘کے معنی سمجھنے کے لئے ضرور ہؤا کہ ماقبل کو ہم دیکھ لیں۔تو جب ہم نے ماقبل کو دیکھا تو یہ آیت موجود ہے۔اِس بیان سے اِتنا تو معلوم ہؤا کہ وہ ایسے مُنکر لوگ ہیں جن کے لئے کا ارشاد ہے۔عام نہیں۔پھر قُرآن کریم نے صاف صاف بیان فرمایا ہے جہاں ارشاد کیا ہے:۔ ( النسآء : ۱۵۶) یعنی ان کے کُفر کے سبب اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی۔اِس سے معلوم ہؤا کہ مُہر کا باعث کفر ہے انسان کفر کو چھوڑے تو مُہر ٹوٹ جاتی ہے۔اِسی طرح فرمایا: ٍ (المؤمن:۳۶) پس تفصیل دونوں آیتوں کی یہ ہے: (تحقیقجن لوگوں نے کفر کیا) یاد رکھو کہ کفر کرنا کافر انسان کا اپنا فعل ہے جیسے قرآن کریم نے بتایا اور یہ پہلی بات ہے جو کافر سے سر زد ہوئی ہے اور یہ کفر خداداد