حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 511 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 511

کے واسطے تیرے مذبح پر چڑھائے جاویں گے اور مَیں اپنی شوکت کے گھر کو بزرگی دوں گا۔یہ کون ہیں جو ٹڈی کی طرح اُڑتے آتے ہیں اور کبوتر کے مانند اپنی کا بک کی طرف یقینا بحری ممالک تیری راہ تکیں گے اور ترسیس کے جہاز پہلے آویں گے۔۱۰۔اجنبیوں کے بیٹے بھی تیری دیوار اُٹھائیں گے اور ان کے بادشاہ تیری خدمت گذاری کریں گے۔اگرچہ مَیں نے اپنے قہر سے تجھے مارا پر اپنی مہربانیوں سے تجھ پر رحم کروں گا اور تیری پھاٹکیں نِت کُھلی رہیں گی وے دن رات کبھی بند نہ ہوں گی۔۱۴۔ہاں وہ سب جنہوں نے تیری تحقیر کی تیرے پاؤں پڑیں گے اور وہ خدا کا شہر اسرائیل کے قدّوس کا صیہوں ( سنگلاخ زمین) تیرا نام رکھیں گے اس کے بدلے کہ تُو ترک کی گئی اور تجھ سے نفرت ہوئی۔اِلیٰ اٰخر۔یسعیاہ ۵۴ باب ۱۰۔اری بانجھ تُو جو نہیں جنتی تھی ( مکّے اور قومِ قریش میں کوئی نبی اور رسول نہ ہؤا اِس لئے اُسے بانجھ کہا) خوشی سے للکار تُو جو حاملہ نہ ہوتی تھی وجد کرے گا اور خوشی سے چِلاّکیونکہ خداوند فرماتا ہے بیکس چھوڑی ہوئی کی اولاد خصم والی کی اولاد سے زیادہ ہیں۔( اہل اسلام یہود سے زیادہ ہیں اور عیسائی مجوس اور موجود یروشلم سے ا لگ ہوبیٹھے ہیں وہ ظاہری یروشلم کی اولاد ہی نہیں) اپنے خیمے کو بڑھا وے۔ہاں مسکن کے پردے پھَیلا۔دریغ مت کر۔اپنی ڈوریاں لمبی اور اپنی میخیں مضبوط کر اِس لئے کہ تُو داہنی اور بائیں طرف بڑھے گی اور تیری نسل قوموں کی وارث ہو گی اور اُجاڑ شہروں کو بسادے گی۔مت ڈر کہ تُو پھر پیشمان نہ ہو گی۔تُو مت گھبرا کہ تُو پھر رُسوانہ ہو گی۔تُو اپنی جوانی کے ننگ بھُول جائے گی اوراپنی بیوگی کی عار پھر نہ یاد کرے گی کیونکہ تیرا خالق تیرا شوہر ہے۔اس کا نام رَبّ الا فواج ہے اور تیرا نجات دینے والا اسرائیل کا قدوس ہے۔وہ ساری زمین کا خدا کہلائے گا کیونکہ تیرا خدا کہتا ہے خداوند نے جو تجھے طلاق کی ہوئی اور دِل آزردہ عورت سے ہے اور جوانی میں کی ایک جوروکے مانند جو رو کی گئی ہو۔پھر بُلایا ہے۔لاکن اَب مَیں بہت سی مہربانیوںکے ساتھ تجھے سمیٹ لُوں گا۔شدّتِ قہر کے حال میں مَیں نے اپنا مُونہہ تجھ سے ایک لحظہ چھپایا۔پر اَب مَیں ابدی عنایت سے تجھ پر رحم کروں گا۔خداوند تیرا بچانے والا یُوں فرماتا ہے میرے آگے یہ نوحؑ کے پانی کا سا معاملہ ہے جس طرح مَیں نے قَسم کھائی تھی کہ پھر زمین پر نوحؑ کا سا طوفان کبھی نہ آوے گا اسی طرح اَب مَیں نے قَسم کھائی کہ مَیں تجھ سے پھر کبھی آزردہ نہ ہوں گا۔غرض یسعیاہ ۵۴ باب میں دُور تک یہ مضمون ہے یسعیاہ۶۰۔اُٹھ روشن ہو۔تیری روشنی آئی اور