حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 512
خداوند کے جلال نے تجھ پر طلوع کیا۔دیکھ تاریکی زمین پر چھا گئی اور تیری قوموں پر بھی تاریکی نے اثر کیا۔لاکن خداوند تجھ پر طالع ہو گا اور اس کا جلال تجھ پر نمود ہو گا اور قومیں اور بڑے بادشاہ تیری روشنی اور تیرے طلوع کی تجلّی میں چلیں گے۔انتہیٰ مختصراً۔ہم یقینی طور پرکہتے ہیں یہ سب مکّے کی تعریف ہے۔اگر نہیں تو بتاؤ لایان اور عیفہ اورسبا کی اونٹنیاں کہاں جمع ہوتی ہیں۔قیدار کی بھیڑیں اور نبیط کے مینڈھے کِس مذبح پر چڑھائے جاتے ہیں۔عبری میں جس چیز کی زیادہ تعریف کرنا مطلوب ہوتا ہے اسے ملکہ اور عورت کر کے تعبیر کرتے ہیں۔اگر انکار ہے تو دیکھو حزقیل ۱۶ باب الیٰ اٰخرہٖ۔(فصل الخطاب صفحہ ۱۶۷ تا ۱۷۵) کے معنوں میں مَیں نے بہت غور کیا ہے۔بہت لوگ اِس قِسم کے ہوتے ہیں کہ عیب جوئی کی فِکر میں لگے رہتے ہیں۔مَیں نے ایسی عادت والوں کو دیکھا ہے کہ وہ مرتے نہیں جب تک اس گناہ میں گرفتار نہ ہو لیں جس کے لئے وہ دوسرے کی تحقیر کرتے ہیں اور لوگوں میں شور و فساد ڈالتے ہیں۔اِسلام ایک سیدھا اور سادہ مذہب ہے مگر تَبْغُوْنَھَا یہ لوگ چاہتے ہیں اس کے لئیعِوَجًا کہ کوئی عیب نکل آئے اور ایک معنے یہ ہیں کہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اسلام میں رہیں یعنی اﷲ کی راہ پر قائم رہیں اور پھر اسی طرح ٹیڑھے کے ٹیڑھے بھی رہیں۔حقیقی تبدیلی کو پیدا نہیں کرتے۔کیسا افسوس کا مقام ہے۔ایک طرف اﷲ کو راضی کرنے کا ارادہ ہے دوسری طرف عیب ڈھونڈنے کی کوشِش کرتے رہنا بہت ہی خطرناک راہ ہے۔مومنوں کی تعریف میں فرمایا ہے (اٰل عمران :۱۹۲) اب جو بجائے ذکر اﷲ کے مخلوق کے عیب بیان کرتا پھرے وہ مومن کیسا ہؤا اور پھر اپنی غلطی پر اَڑ جانا اور یہ سمجھنا کہ ہم نے خدا سے کوئی وعدہ لے لیا ہے اَور بھی بُرا ہے۔اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہ دیکھنا اور دوسروں کی آنکھ کے تنکے کو گھنونی نظر سے دیکھنا