حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 510
نہیں بلکہ عباداتِ اسلامیہ میں تو مکّے کا بھی ذکر نہیں۔اس کی عبادت کیا ہو گی؟ اگر اس کو ہاتھ لگانا یا چُومنا عبادت ہے تو سب لوگ بیاہی ہوئی عورتوں کے عابد اور خدا کو سجدہ کرنے والے زبان کے پجاری ہوں گے۔بات یہ ہے کہ مقدّس مقام میں تصویری زبان کے اندر یہ گفتگو ہے کہ نبوّت کی پاک محل سرا میں کونے کا پتّھر یہاں مکّے سے نکلے گا بلکہ مسیحؑ نے متی ۲۱ باب ۳۳ میں خود کہا ہے کہ یہ تمثیل ہے۔انتہٰی نفسِ وجودِ کعبہ اور بَیت اﷲ کا ثبوت پیدائش ۱۲ باب ۶۔۹۔ابراہیمؑ نے خداوند کے لئے کنعان میں ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے روانہ ہو کے اُس نے بیت ایل کے پورب ایک پہاڑ کے پائیں اپنا ڈیرہ کھڑاکیا۔بیت ایل اس کے پچھم اور عی اس کے پورب تھا اور وہاں اس نے خدا کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند کا نام لیا اور ابرام رفتہ رفتہ دکّھن کی طر ف گیا یہاں جس بیت ایل کا تذکرہ ہے وہ ضرور مکّہ ہی ہے کیونکہ کنعان عرب کے حدود میں ہے اور لکھا ہے قربان گاہ بنا کے جب روانہ ہؤا پھر ایک جگہ ڈیرا لگایا اور وہاں سے دوسرا قربان گاہ بنایا اور اس کے پچھم ایک بیت ایل کا بیان کیا جو بیت ایل سمندری ہے یم سمندر کو کہتے ہیں اور وہاں لفظ بیت ایل یم ہے اور نیز آخر میں کہا ہے ابرام رفتہ رفتہ دکھن پہنچا اور مسیحؑ فرماتے ہیںکہ دکھن کی بلکہ شہر سبا کی شہزادی تھی جو سلیمانؑ کے پاس آئی اور صاف ظاہر ہے کہ بیت اﷲ جسے مکّہ کہتے ہیں کنعان سے دکھن کی طرف واقع ہے۔علاوہ بریں پیدائش ۱۳ باب ۳ میں ابرام کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دکھن کی طرف چلا اور سفر کرتا دکھن سے بیت ایل میں پہنچا۔اور تراجم موجودہ میں جو فقرہ اس کے بعد لکھا ہے وہ توریت کا فقرہ نہیں اور قومی روایات ، ملکی تواتر، رسومات کا توافق ، ابراہیمی عبادات سے ختنے کی رسم قربانی وغیرہ مناسک میں اتحاد۔تمام اقوامِ عرب کا اِس بات پر نسلاً بعد نسلٍ اتفاق صاف گواہی دیتا ہے کہ ابراہیمؑ کو اس مسجد سے تعلق ہے جسے بَیت اﷲ کہتے ہیں۔پھر کوئی امر قانونِ قدرت میں اور کوئی ضروری اور بدیہی علم ہمیں اس اعتقاد سے پھرنے پر مجبور نہیں کرتا۔یسعیاہ ۶۰ باب ۶۔اُونٹنیاں کثرت سے تجھے آ کے چھپا لیں گی۔مدیان اور عیفہ کی جوان اونٹنیاں وے سب جو سبا کے ہیں آ ویں گے۔۷۔قیدار ( پسر اسمٰعیل) )کی ساری بھڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی۔نبیط ( پسر اسمٰعیل) کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔وہ میری منظوری