حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 492
ہو جاؤ اور عصر کی نماز کے بعد اس دین کو ترک کر دو اور یہ ظاہر کرو کہ ہم نے اندر جا کر اس میں بہت سی بدیاں دیکھیں۔پس اِس تجویز سے یہ چند اہلِ کتاب جو مسلمان ہو گئے ہیں واپس اپنے دین میں لَوٹ آئیں گے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے منصوبہ بازیوں کا کچھ فائدہ نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ جون ۱۹۰۹ء) تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا میں و قِسم کی طبیعتیں ہوتی ہیں ایک وہ جنہیں اگر عمدگی سے وعظ کیا جاوے تو مان لیتے ہیں اور اگر تشدّد کیا جائے تو انکار کرتے ہیں اور ایک وہ جو دلائل کو مانتے ہی نہیں۔ہاں دو چار جُوت لگ جائیں تو کہتے ہیں جی ٹھیک ہے۔ایک زمانہ میں مجھے خیال پیدا ہؤا تو مَیں نے چند لڑکوں سے سوال کیا اگر کوئی لڑکا بد چلنی کرے تو اس کے روکنے کی کیا تدبیر ہے؟ اس پر بعضوں نے لکھا کہ اسے نصیحت کی جاوے مگر تنہائی میں۔اور بعضوں نے یہ کہا کہ نصیحت کی جاوے مگر عام لڑکوں میں تا اسے ندامت ہو۔بعوں نے کہا پکڑ کر خوب بید لگائے جاویں تا پھر کبھی ایسی جرأت نہ کرے۔درحقیقت سب نے سچّ لکھا کیونکہ کئی قِسم کے لوگ ہیں۔بعض وہ جو نصیحت مان لیتے ہیں مگر دلائل کے ساتھ۔بعض ایسے بھی ہیں جنہیں دلائل دیں تو وہ اَور بھی بپھر جاتے ہیں اور رَدّ و قدح شروع کر دیتے ہیں۔بعض صرف کہنے سے مان لیتے ہیں۔بعض مدلّل کہنے کو مانتے ہیں۔بعض صرف خموشی یا توجّہ چھوڑ دینے سے مان جاتے ہیں۔بعض مار کھائے بغیر نہیں سمجھتے ہیں۔پھر بعض ایسی طبائع کے انسان ہوتے ہیں جو دن رات منصوبے سوچتے رہتے ہیں ایسے بدبخت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔مگر وہ اسی فِکر میں غلطاں و پیچاں رہتے ہیں کہ فلاں بڑے کارخانے کو نقصان پہنچائیں۔بس ایسے بدبختوں کا ذکر اِس آیت میں ہے۔(بدرؔیکم جولائی ۱۸۰۵ء صفحہ ۶۳ جلد ۹)