حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 491 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 491

:ولیؔ معمولی لفظ نہیں۔قرآن شریف نے اس کی تفسیر بتائی ہے اور اس کی ایک پہچان بتائی ہے۔جب اﷲ کسی کا ولی بنتا ہے تو اس کی ولایت کا نشان یہ ہے کہیُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ( البقرۃ :۲۵۸) یعنی انسان جو قِسم قِسم کی ظلمتوں میں پڑا ہو۔ان ظلمتوں سے روز بروز نکلتا جاتا ہے۔بڑی ظلمت تو یہ ہے کہ ماں باپ اچھے نہ ہوں۔پھر دوسرے مربّی استاد وغیرہ۔پھر دوست،آشنا۔پھر رسم و عادت۔پھر محبّت و بُغض۔پھر شہوت و حرص۔پھر بُخل و عجز و کسل۔کسی کے اُوپر بے جا ظلم (الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ)پس ان ظلمتوں سے نکل کر جو نور کی طرف جا رہا ہو تو سمجھئے کہ اﷲ میر ولی ہو گیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ جون ۱۹۰۹ء)   : یہ نہیں گمراہ کر سکتے مگر اپنے ہی ڈھب کے لوگوں کو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ جون ۱۹۰۹ء)  ایک گروہ نے اہلِ کتاب میں سے کہا بڑے بڑے عماید یہود جو ہیں وہ سب مِل کر صُبح مسلمان