حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 493
تُو کہہ دے وہ خاص ہدایت جسے الہٰی کہتے ہیں تو یہی ہے کہ دیا جاوے کوئی مثل اس کی کہ دیئے گئے تم ( استثناء ۱۸باب۱۸) بلکہ تم پر حُجّت میں غالب آوے تمہارے پالنے والے ربّ کے سامنے تو کہہ دے یہ نبوّت اور رسالت اﷲ تعالیٰ کا فضل ہے اور اسی کے ہاتھ ہے۔جسے چاہے دے اور اﷲ وسیع و علم والا خاص عزّت و رحمت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اﷲ بڑے فضل والا ہے۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۹۶) :کامل ہدایت تو وہی ہے جو اﷲ کی ہدایت ہے اور وہ یہ کہ تمہاری مثل ایک اَور قوم کو بھی انہی انعامات سے ممتاز فرمایا گیا ہے۔سلطنت ،نبوّت۔:بلکہ وہ تمہارے ربّ کی حُجّت میں تم پر غالب ہیں۔اَوْ کے معنے بلکہ کے ہیں۔:اﷲ تعالیٰ نے رسول کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کی نسبت بھی فرمایا (المائدۃ:۶۸) اور داؤدؑ کی عبادت گاہ میں جب دشمن چڑھ آئے تو وہاں بھی فرمایا اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ (صٓ:۲۷)ہم نے تمہیں بادشاہ بنایا ہے۔یہاں یہ مسئلہ سمجھایا ہے کہ الہٰی انتخاب کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنا ہلاکت کا موجب ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ جون ۱۹۰۹ء) :ہدایت یہ ہے کہ دیا جائے جیسے موسٰیؑ دیا گیا تھا بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ غالب آ جائے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفح۴۴۷) اِن آیات (۷۳ تا ۷۵۔ناقل ؔ) میں بہت سی باتیں بتا کر باری تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبوّت اور قُرآن خداوندِکریم کا فضل ہے اور فضل کے دینے میں اﷲ تعالیٰ کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے خاص فضل سے مخصوص کرے۔خدا کا وہ ارادہ جس سے وہ اشیاء پیدا کرتا ہے اس کی تکمیل ایک لابدی امر ہے کیونکہ اس قادرِمطلق کی قدرت اور طاقت کے واسطے کوئی مانع نہیں۔اسی ارادۂ اَزلی کی تکمیل کی ضرورت نے نزولِ قرآن اور نبوّت ِ محمدِ عربیؐ کو ضروری کر دیا۔مثلاً نادانی سے کوئی کہے کہ پطرس اور یوحنّا