حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 477
کہا تھا۔یہ تو معمولی بات ہے۔مَیں نے اسے کہا کہ آپ نے اگر کوئی ایسا مُردہ زندہ کیا ہے تو بتاؤ تووہ دَم بخود رہ گیا۔:اِس کے یہ معنے غلط ہیں کہ لوگوں کو کھایا پیا بتا دیتے تھے۔یہ نبیوں کا کام نہیں ہوتا طبیبوں کا ہو سکتا ہے۔نبی تو کھانے پینے اور ذخیرہ رکھنے کے متعلق احکام بتاتے ہیں۔پس عیٰسیؑ کہتے تھے مَیں تمہیں متنبّہ کرتا ہوں اِس بات پر کہ تمہیں کیا کیا چیز کھانا حلال ہے اور مال میں سے کتنا حِصّہ زکوٰۃ دینی چاہیئے اور کیا پاس رکھنا جائز ہے۔مَیں ایک دفعہ ایک جگہ گیا تو وہاں ایک صاحب کی تعریف ہونے لگی کہ وہ جو کچھ رات کو کھایا جاوے بتا دیتے ہیں۔حالانکہ اصلی بات یہ تھی کہ وہ طبیب تھے ان کی دُکان کے پاس ہی سبزی کی ایک ہی دکان تھی پس وہاں سے خریدنے پر وہ دیکھ لیتے کہ آج ان کے گھر کیا پکا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۷؍ جون ۱۹۰۹ء) اِن آیات کے معنے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیئے کہ اسی سورۃ اٰلِ عمران کے ابتدامیں بتایا گیا ہے کہ آیات دو قِسم کی ہیں ایک محکمات ایک متشابہات۔محکمات اُمّ الکتٰب یعنی اصل۔پس متشابہات کے ایسے معنے کئے جائیں گے جو محکمات کے خلاف نہ ہوں اور ایسا ہر متکلم کے کلام کے لئے کرنا پڑتا ہے۔مثلاً ایک شخص اپنے نوکر سے کہتا ہے کہ آج ہم ریل پر سوار ہو کر فلاں مقام پر چلتے ہیں پھر سٹیشن پر جا کر اسے کہے کہ ٹکٹ لاؤ۔تو اَب اگرچہ ٹکٹ کئی قِسم ہیں ڈاکخانہ سے بھی ٹکٹ ملتے ہیں۔پھر ان کی بہت سی قسمیں ہیں لیکن محکم بات کے مطابق جب وہ اس متشابہ بات کے معنے لے گا تو ضرور ریل کا ٹکٹ لائے گا۔اِسی طرح جب دوسری محکم آیات میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ خلق و احیاء ، غیب دانی صرف اﷲ ہی سے خاص ہے تو اب ان الفاظ کو عیٰسی علیہ السّلام سے منسُوب کریں گے۔تو چونکہ وہ ایک بشر تھے اِس لئے ان کے وہ معنے نہیں لئے جائیں گے جو اﷲ تعالیٰ کے لئے لئے جاتے ہیں اور مجازی معنے بھی ہم نہیں لیتے بلکہ لُغت میں ایک لفظ کے کئی معنے ہیں پس جو معنی حضرت عیٰسیؑ کے مناسبِ حال ہیں وہی لئے جائیں گے۔دومؔ یہ سورۃ عیسائیوں کی تردید ہے پس ایسے معنے نہیں کئے جائیں گے جس سے ان کے عقائد کی تائید ہو اور عیسٰیؑ کی خدائی کا ثبوت ملے۔سومؔ متشابہات کے معنے معلوم کرنے کے لئے دعا کا حکم ہے سو بہت سی دعاؤں کے بعد یہی مجھ پر کُھلا ہے کہ خلق اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے چنانچہ فرماتا ہے(العنکبوت:۲۰)اور سورۃبُروج میں فرمایااِنَّہٗ ھُوَ یُبْدیُٔ وَ یُعِیْدُ ( آیت :۱۴) اور فرمایا اَ لَا لَہُ الْخَلْقُ (الاعراف :۵۵)