حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 478
اسی کے شایان ہے پیدا کرنا اور فرمایااَﷲُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ (الزّمر :۶۳)اﷲ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور فرمایا (یونس:۳۵)اعلان کر دے کیا ہے تمہارے شرکاء سے جو پیدا کرے پھر اسے دُہرائے۔کہہ دے اﷲ ہی پیدا کرتا ہے پھر لَوٹاتا ہے۔پس تم کہاں بہکے جاتے ہو۔پھر (الرّعد:۱۷) فرما کر بتا دیا کہ خدا کا خلق اَور ہے اور مخلوق کا خلق اَور۔اِسی بنا پر اﷲ تعالیٰ مُشرکوں کو ملزم بناتا ہے۔کیا شرکاء نے کوئی ایسا خلق کیا جیسا کہ اﷲ نے اور پھر خلق میں تشابہ ہو گیا؟ ہرگز نہیں۔پس اعلان کر دے کہ اﷲ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ اکیلا زبردست حکومت والا ہے۔کوئی اس کے افعال میں اس کا ثانی نہیں۔وہ جیسا خود لَیْسَ کُمِثْلِہٖ شَیْئٌ(الشورٰی:۱۲) ہے ایسا ہی اس کے افعال۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا خلقکِسی اَور معنے میں بھی لیا جاتا ہے تو قرآن مجید ہی سے اِس کی شہادت ملتی ہے کہ خلق بمعنی اندازہ ہے۔فَتَبٰرَکَ اﷲُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ(المؤمنون :۱۵)پس بہت بابرکت ہے اﷲ جو بہت عمدہ اندازہ کرنے والا ہے۔اندازہ کے معنے اِس لئے کئے کہ خالق تو بغیر اﷲ کے اَور کوئی ہے نہیں۔دوسرے مقام پر فرمایاخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا (الفرقان :۲)اور خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (البقرۃ :۳۰)میں بھی خلق کے معنے اندازہ کے ہیں کیونکہ خلق تو اَبد تک جاری ہے۔پس دوسرا لفظ ہے طِیْن۔طِیْن آدم کے حق میں اس کے دشمن کی شہادت ہیخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ یعنی تُو نے آدم کو طین سے پیدا کیا ہے۔طین میں خوبی یہ ہے کہ اسے جس قالب میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتی ہے اِسی لئیخَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ طِیْنٍ فرمایا یعنی آدم کی فطرت ایسی ہے کہ جس طرز میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتی ہے۔طَیْرٌ کا اطلاق بلند پرواز انسان پر ہوتا ہے۔شہیدوں کے حق میں فرمایا ہے کہ وہ جنّت میں سبز پرندوں کی شکل میں ہوں گے اور مجاہدوں کو بھی طَیْرٌ فرمایاکہ وہ اُڑ کر موقعۂ جنگ پر پہنچتے ہیں۔اَنْفُخْ فِیْہِکے معنے کلامِ الہٰی سے تربیت کے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں فرمایاً۔(صٓ:۷۳،۷۲) مَیں طین سے ایک بشر خلق کر کے پھر جب وہ ٹھیک ٹھاک ہو جائے تو مَیں اس میں کلامِ الہٰی نفخ کروں گا