حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 476
خاصیّت ہے کہ جس رنگ میں چاہیں ڈھال لیں مگر آگ نہیں ڈھل سکتی۔یہاں مسیحؑ فرماتے ہیں کہ مَیں تجویز کر سکتا ہوں مگر اس کے لئے جو طین ہو یعنی کوئی شخص میری تعلیم کو تسلیم کرے اور اپنے میں طین کی صفات رکھے تا جس رنگ میں چاہیں ڈھال سکیں۔تو وہ یَکُوْنُ طَیْرًا جنابِ الہٰی میں اُڑنے والا ہو جاوے گا۔طیر ؔکا لفظ مومن کے لئے حدیث میں آیا ہے۔فَاَنْفُخُ فِیْہِ : مَیں اس میں کلام کی ایسی رُوح پُھونکوں گا کہ وہ مادہ پرستی سے نکل کر بلند پرواز انسان ہو جائے گا۔خَلَقَکے معنے پیدا کرنے کے ہیں تو یہ اسلامی عقائد کے خلاف ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے (فاطر:۴)(الانعام :۱۰۲)(الزمر:۶۳)( النحل :۲۱) :مذاہبِ عالَم پر نظر کرنے سے ہندوؤں کا یہ مذہب معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر دُکھیارے کو کہتے ہیں۔اس نے پچھلے جنم میں بَدی کی ہے جس کی یہ سزا بھُگت رہا ہے۔قرآن شریف اِس عقیدہ کے مخالف ہے چنانچہ وہ مُردوں کے متعلق فرماتا ہے وَ مِنْ وَّ رَآائِھِمْ بَرْزَخٌ (المؤمنون :۱۰۱)اور مسیحؑ بھی۔چنانچہ آپ کے پاس ایک جنم کا اندھا آیا جو ان کی دُعا سے اچھا ہؤا تھا۔حواریوں نے سوال کیا کہ حضرت یہ جنم کے اعمال سے اندھا ہؤا یا ماں باپ کے اعمال سے۔آپ نے فرمایا دونوں باتیں غلط ہیں بلکہ یہ اِس لئے اندھا ہؤا تا خدا ۱؎ مٹی جس میں پانی ملا ہوا نہ ہو۔مائٌ:پانی۔مرتّب کا جلال ظاہر ہو۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحؑ کے وقت تناسخ کے خیالات بعض لوگوں میں تھے۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ مسیحؑ نے بھی تناسخ کی تردید کی اور کہا کہ مَیں اکمہ اور ابرص کو مِمَّا تَعْمَلُوْنَسے بَری ٹھہراتا ہوں یہ پچھلے جنم کی بَدیوں کی وجہ سے اکمہ یا ابرص نہیں ہوئے۔قرآن شریف میں مرض کے مقابلہ میں شفا کا لفظ ہے۔:اِحیائِ موتی تین طرح کا ہے۔ایک اﷲ کا جیسا کہ سورۃ بقرۃ میں حضرت ابراہیمؑ نے کہا رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ( البقرۃ :۲۵۹) اور ایک جگہ آیاھُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ( یونس :۵۷) وہی مارتا اور جِلاتا ہے۔خدا کے فعل کا تو کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ایک احیائِمَوتٰیٖ وہ ہے جو کفّار نے موسٰیؑ کے مقابلہ میں کیا۔فَاِذَا حِبَالُھُمْ وَ عِصِیُّھُمْ (طٰہٰ :۶۷)ایک احیائِ مَوتٰی انبیاء کا ہے چنانچہ نبی کریم صلّی اﷲ علیہ وسلّم کی نسبت فرمایایٰٓاَیُّھَا الَّذِنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَ للرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ( الانفال:۲۵)مسیحؑ رسول تھا پس اس کا احیاء بھی رسولوں والا احیاء ہونا چاہیئے۔وہ کیا ہے۔بَدوں کا نیک بن جانا۔ایک شخص نے یہ معنے سُنکر مجھے