حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 455
: یہ گواہی انبیاء نے دی ہے پھر ان کے متّبعوں نے سنی ہے۔خود خدابولا ہے اور اس نے اپنی زبان سے فرمایا ہے کہ میں یگانہ معبودِ خلائق ہوں۔میں خود بھی گواہ ہوں کہ اﷲ نے اپنی ذات کی نسبت گواہی دی۔اس نے مجھے فرمایا مَنْ جَمَعَ الْقُرْاٰنَ فَقَدْ تَصِنْ تَصَانَ۔تَصِنْ کے معنے میں نہیں جانتا۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۲۷ مئی ۱۹۰۹ء) : مَیں نے دُنیا کے بہت سے مذاہب کی کتابوں کو دیکھا ہے ان کی الہامی کتابوں میں ان کے مذہب کا کوئی نام نہیں۔مگر اﷲ نے ہمارے لئے جو دین پسند کیا اس کا نام اسلام بتلایا اور فرمایا کہ وہ دین جو خدا کے حضور پسندیدہ ہے وہ یہی ہے کہ فرمانبرداری ہو۔حضرت نوحؑ آ گئے تو ہم تابعدار ہیں پھر ابراہیمؑ آئے ہم فرمانبردار ہیں۔موسٰی علیہ السّلام کو دَور ہے ہم مطیعِ فرمان ہیں۔جنابِ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آئے ہم ان کے غلام ہیں۔پس یہی سلامت رَوی کی راہ ہے۔یہ نظّارہ گورنمنٹ کی ظاہری سلطنت میں بھی نظر آتا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر جاتا ہے دوسرا آتا ہے۔رعایا کو کسی خاص شخص سے وابستگی نہیں۔پس جو آیا اس کے وہ مطیع ہو