حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 456
جاتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو (البقرۃ :۹۲)کہتے ہیں بہت ناپسند کیا ہے۔مسلم وہی ہے جو سب انبیاء و اولیاء و خلفاء کا تابع فرمان ہو۔:انہوں نے خلاف ورزی کی مگر اس کے بعد جب ان کے پاس علم آ چکا میرے عقیدہ کے مطابق خود رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا وجود ایک آیت تھا۔؎ زفرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامنِ دِل می کشد کہ جا انیجاست آپ کے اقوال ، آپ کے افعال ، آپ کے پاس بیٹھنے والے، آپ کے دوست، آپ کے آشنا، آپ کے کارکن، آپ کی تعلیم، آپ کی کتاب۔ان سب کو جب مَیں دیکھتا ہوں تو زبان بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ وہ ایک بے نظیر رسول تھا۔قوم کا ایک مدبّر آیا۔آپ فرما رہے تھے اَمر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر۔وہ یہ بات سُنتے ہی پھڑک اُٹھا۔اس نے جا کر قوم کو کہا۔کیا تم پسندیدہ امور کرنا چاہتے ہو یا نہیں؟ وہ بولے۔ہاں۔کیا تم ناپسندیدہ سے رُکنا چاہتے ہو؟ کہنے لگے۔ہاں۔اس پر وہ بولا کہ محمد رسول اﷲ صلی علیہ و آلہٖ وسلم کے دین میں آ جاؤ کہ وہ بھی یہی فرماتا ہے۔اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ سپرد کر دیا ہے اپنی تمام توجّہ کو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء) اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو دین کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اﷲِ الْاِسْلَامُ اﷲتعالی‘ کے حضور دین کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ :اپنی ساری قوّتوں اور طاقتوں کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کافرماں بردار ہو جائے۔اﷲ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر رُوح اور راستی سے عمل درآمد کرے۔دین کے متعلق جبرائیل علیہ السّلام نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپ نے صحابہ کرام کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا۔اَتَاکُمْ لِیُعَلِّمَکُمْ دِیْنَکُمْپس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچّا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔ کے معنے یہ ہیں سر رکھ دینا،جان سے، دل سے، اعضا سے، مال سے۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اﷲ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴)