حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 454

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ :مومن کے چھ کام۔۱۔دُعا ۲۔صَبَر عَنِ الْمَعْصِیَتْ وَعَلَی الطَّاعَۃ ۳۔راستبازی ۴۔عبادت گزاری ۵۔کچھ اﷲ کی راہ میں خرچ کرے ۶۔استغفار (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۵) وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ : نارالحرب۔نارِ جہنّم، دونوں سیــ- لڑائیوں کی ابتدا بھی نار سے ہوتی ہے اور انتہاء بھی۔پہلے غضب اُٹھتا ہے۔وہ بھی آگ ہے۔پھر لوگوں کو ساتھ لانے کیلئے مہمان نوازی کرتے ہیں۔اس میں بھی آگ ہے۔پھر توپ ،بندوق، تارپیڈو۔یہ تو سب نے دیکھی۔پس اسی طرح انجام شریر کا نارِ جہنّم ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)   :متّقی کی یہ صفت ہے کہ اس میں برداشت و تحمّل ہوتا ہے اور یہ صبر کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی قدرت سے باہر ہو اِسی لئے (البقرۃ :۲۸۷) فرما چکا ہے۔ایک رئیس تھا اس کے حضور میں ایک شخص نے عرضی دی کہ حضور کی قوم کے ایک آدمی نے مجھے گالی دی ہے۔اُسے بُلایا گیا۔رئیس نے اُس آدمی کو سخت گالیاں دیں جو اس کی شان سے بعید تھیں۔اخیر اس حاکم نے اس سے پوچھا تم نے اس افیسر کی کیوں بے عزّتی کی ؟ تو وہ کہنے لگا کہ اس نے مجھے گالی دی تھی پھر مجھ میں تابِ حوصلہ نہ رہی۔رئیس نے کہا کہ صبر کی طاقت تو تجھ میں ہے۔دیکھو مَیں نے بھی تجھے گالیاں دیں اور تم چُپکے ہنسا کئے۔اگر لوگ صبر کریں تو بہت سی لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاوے۔صبر کے معنے ہیں اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے اپنے تئیں روکنا۔غیظ و غضب سے، شہوت سے، حرص و آز سے۔:راست باز الْقٰنِتِیْنَ:فرماں بردار :لوگوں نے اِس بات پر بحث کی ہے کہ تہجّد صرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر فرض تھی یا دوسروں پر بھی؟ اِس آیت سے کم از کم یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ استغفارِ اَسحار متّقی کا فرض ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍ مئی ۱۹۰۹ء)