حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 448
کے لئے ایک گُر بتایا ہے۔اب فرماتا ہے کہ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ انہی متشابہات کے پیچھے پر جاتے ہیں۔وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٓ ٗ اِلَّا اﷲُ اﷲ کے سوا اس کی حقیقت کِس کو معلوم ہے۔یہاں وقف ہے۔وَالرَّا سِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ: اَب فرماتا ہے جن کو یہ خواہش ہے کہ وہ راسخ فی العِلم ہو جاویں وہ مُحکموں کو معًا مان لیتے اور مُتشابہ کو انکار نہیں کرتے بلکہ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا کہتے ہیں۔یعنی دونوں پروردگار کی طرف سے مانتے ہیں۔پس وہ متشابہ کے ایسے معنی نہیں کرتے جو مُحکم کے خلاف ہوں بلکہ ہر جگہکُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا کا اصول پیشِ نظر رکھتے ہیں۔کوئی آیت ہو اسکے خواہ کتنے معنے ہوں مگر ایسے معنے نہ کرنے چاہئیں جو محکم کے خلاف ہوں۔دوسرا طریق دُعا کا ہے وہ یُوں بتایا کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا یعنی اے ہمارے رَبّ ہمیں کجی سے بچا لے۔یعنی قرآن کے معنے اپنی خواہشوں کے مطابق نہ کریں۔وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً : اپنی خاص رحمت سے ممتاز کر۔وہ رحمت کیا ہے۔اَلرَّحْمٰنُ۔عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ(الرّحمان :۲،۳)۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء) اٰیٰتٌ مُّحْکَمٰتٌ : ہر شخص کے لئے کام کا کوئی حصّہ محکم ہے جو اچھی طرح سمجھ میں آ جاتا ہے اور کچھ حصّہ متشابہ جس میں کچھ شبہات ہیں۔پس اس متشابہ کو محکم کے تابع کرے اور متشابہ کے ایسے معنی کرے جو محکم کے خلاف نہ ہوں (۱) وَوَجَدَکَ ضَالاًَّّ متشابہ ہے تو مَاضَلَّ اسے حل کر دے گی۔کلامِ الہٰی سمجھنے کا ایک طریق یہ ہے۔دوسرا طریق دُعا ہے۔تیسرا قیامت سے ڈرنا۔ابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ : اپنے مطلب کی حقیقت مراد ہے اِس لئیابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ کی طرح یہ مقصد بھی بُرا ہے۔اِلَّا اﷲُ : یعنی اس کی اصل حقیقت دوسری آیات میں موجود ہے اور وہ آیات اﷲ ہی کی ہیں اِس لئے اﷲ ہی کے پاس حقیقت فرمائی۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۵)