حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 449

:پھر یہ سمجھے کہ جب معمولی مجلس میں ہتک گوارا نہیں کر سکتا تو جہاں اوّلین و آخرین جمع ہوں گے وہاں کیونکر ذلّت گوارا ہو گی۔پس مجھے کسی غلطی میں نہ ڈال کہ قرآن کی کچھ مراد سمجھ کر مَیں عذاب میں گرفتار ہو جاؤں۔: ایک وعدہ الہٰی تو یہ ہے وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِ یَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :۷۰)دوسرا اَلرَّحْمٰنُ۔عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (الرّحمٰن:۲،۳)اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم دُعا مانگنے والوں کو سمجھا دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۷؍مئی ۱۹۰۹ء)   : سورۂ بقرۃ میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ تعلیماتِ الہٰیّہ کے منکر ہیں اوّل تو کلامِ الہٰی سُنتے نہیں اور جو سُن بھی لیں تو اس پر غور نہیں کرتے بلکہ اس تعلیم کا وجود وعدم وجود برابر سمجھتے ہیں اور ان کے لئے عذابِ عظیم ہے۔اب اس کی تشریح فرماتا ہے کہ لوگ اِس خیال سے کافر ہیں کہ مسلمانوں میں شامل ہونے کی وجہ سے ہمارے اموال میں نقصان ہو گا یا ہماری اولاد خطروں میں پڑے گی۔فرمایا۔نہ مال کام آئے گا نہ ہی اولاد۔:اِس نار سے مراد دُنیا میں نارالحرب ۱؎ ہے۔چنانچہ کُلَّمَا اَوْقَدُوْا نَارً الِّلْحَرْبِ (المائدۃ :۶۵) میں نار کا ذکر ہے۔پھر آیت