حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 447
:اس نے تم پر جامع کمالات کتاب اُتاری جس میں بعض آیات تو محکمات ہیں وہ اُمّ الکِتٰب ہوئیں اور باقی بعض متشابہات۔افسوس ! اﷲ نے تو یہاں عِلم کے حصول کا گُر بتایا تھا۔یہ نہیں کہ(المؤمن :۸۴)بلکہ(البقرۃ :۲۸۳)مگر یہ لوگ بجائے اِس کے کہ اِس لطیف کتاب سے فائدہ اُٹھاتے اَور بھی جھگڑے میں پڑ گئے۔محکمات متشابہات کا مسئلہ بہت صاف تھا مگر مسلمانوں کے اِس بارے میں کئی فریق ہو گئے۔کسی نے کہا کہ یہ مُحکم ہے کسی نے کہا کہ یہ متشابہ ہے کوئی تنزیّہ کی آیتوں پر ایسا جما بیٹھا ہے کہ خدا کو محض لاشیٔبنا دیا۔عِلّت العِلل تو کہہ دیا۔دوسری طرف تشبیہ والوں نے جو زور دیا تو خدا تعالیٰ کا ایک جسم بنا دیا۔مَیں نے ایک برے عالم سے پوچھا تھا کہ محکم و متشابہ آیت میں امتیاز کیا ہے تو اس نے کہا کہ کچھ گڑ بڑ ہی ہے جس سے مجھے بہت صدمہ ہؤا۔مَیں تو اس کو بہت سہل سمجھتا ہوں۔میرے نزدیک ہر شخص کے لئے کوئی حِصّہ کسی متکلّم کے کلام کا محکم ہوتا ہے یعنی جو خوب طور سے سمجھ میں آ جاتا ہے اور کوئی حصّہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے معنے سمجھنے میں دِقّتیں پیش آتی ہیں اور بوجہ اس کے مجمل رکھنے کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔ہر شخص پر یہ حالت گزرتی ہے۔اﷲ نے اس کے متعلق یہ راہ دکھائی ہے کہ جو آیات ایسی ہیں کہ جن کی خوب سمجھ آ جائے اور تجربہ و عقل و مشاہدہ اس کے خلاف نہ ہو تو محکم سمجھ لو۔پھر وہ آیات جن کے معنے سمجھ میں نہیں آئے ان کے معنے ایسے نہ کرے جو ان محکم آیات کے خلاف ہوں۔ہر متکلّم جس کے ساتھ مجھے وابستگی ہے! وہ کون؟ محدّثین!صوفیاء کرام! حکماء عظّام! طبیعات کے ماہر! اِن سب سے مجھے بہت محبّت ہے۔ان کے کلمات کو جب مَیں پڑھتا ہوں تو بعض تو فورًا سمجھ میں آجاتے ہیں اور بعض وقت کلام کے سمجھنے میں دِقّت ہوتی ہے اسے مَیں متشابہ سمجھتا ہوں۔پھر جو محکمات ہیں ان کو کتاب کی جڑ سمجھ کر مصنّف کے اصلی منشا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کو حل کر لیتا ہوں۔کئی ایسے کلام ہیں جو ایک وقت میرے لئے متشابہ تھے پھر دوسرے وقت محکم نظر آئے۔خلاصہ یہ ہے کہ بعض آیات خوب سمجھ میں آ جاتی ہیں اور بعض کے معنے جلد نہیں کُھلتے۔اس