حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 437

کر دے اور گواہی کو مت چھپاؤ۔گواہی کا چھپانے والا دل کا بڑا بدکار ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۶۸،۲۶۹)    یہ سورۃ بقرۃ کا خاتمہ ہے۔وہ بات جو مَیں نے ابتدا میں بیان کی تھی اس کا اس میں بھی پتہ لگتا ہے کہ اصل غرض اِس سورۂ کریمہ کی اعلانِ جہاد ہے چنانچہ(البقرۃ :۲۸۷) میں اِس مطلب کو ظاہر کر کے ختم کر دیا۔اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میںبتایا کہ بعض منعَم علیہم مغضوب بھی بن جاتے ہیں چنانچہ وہ بنی اسرائیل جن کی نسبت فرمایااُذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ(البقرۃ: ۴۸)انہی کی نسبت بَآئُ وْا بِغَضَبٍ مِّنَ اﷲ(البقرۃِ:۶۲) فرمایا کہ منعَم علیہم کی کیا صفات ہیں اور مغضوب علیہم اور ضالین کا انجام کیا ہے۔پھر منعم علیہم میں سے ابراہیمؑ اور اسباط کا ذکر کیا۔پھر جہاد کے لئے آیات فرمائیں اورقَاتِلُوْا میں اس کی تصریح کر دی۔چونکہ جنگوں میں جوش کے لئے شراب اور خرچ کے لئے مَیْسِر کا طریق تھا اِس لئے اس کی نسبت احکام صادر فرمائے اور لڑائی میں بعض بیوہ ہوئیں، بعض یتامٰی۔کچھ خانگی تنازعات پیش آئے۔اِس لئے ان کے بارے میں ضروری احکام بتا دیئے۔پھر بتا دیا کہ تم ایسے نہ بننا جیسے موسٰیؑ کے ساتھی تھے اور نہ ایسے جیسے طالوت و داؤد کے زمانے میں بعض ہوئے۔اِسی ضمن میں اِنفاق کی تاکید فرمائی اور بتایا کیوں دے؟ کیا دے؟ کہاں سے دے؟ کِس طرح دے؟ پھر اِسی سُورۃ میں توحید، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تمام انسانی فضائل و رذائل کا بیان فرما دیا۔گویا یہ سورۃ ایک جامع سورۃ ہے۔اب اخیر میں بیان فرمایا :ان تمام ملکوں پر ایک وقت آتا ہے کہ حکومتِ الہٰیّہ ہو جاوے گی۔ی