حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 438 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 438

یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اﷲِ : دوسرے مقام پر فرمایا اِقْتَرَب لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ(الانبیاء : ۲) محاسبہ کا بھی ایک دن ہوتا ہے۔فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ :مَنْمیں عموم ضروری نہیں۔معرفہ بھی ہوتا ہے۔یہاں بتا دیا ہے کہ مغفرت ان کو ہو گی جو ( البقرۃ:۵) کے مصداق ہیں۔کیونکہ وہی مُفْلِحُوْنہیں اور عذاب ان کو ہو گا جو (البقرۃ :۷) کے مورد ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍مئی۱۹۰۹ء) اِس سورۃ میں بہت سی باتیں خدا تعالیٰ نے لوگوں کو سُنائی ہیں۔پہلے یہ بتایا کہ یہ کتاب تمہارے لئے ہلاکت نہیں بلکہ ہدایت ہے۔ایمان لاؤ۔نمازیں ٹھیک کرو۔اﷲ کی راہ میں دو۔منافق نہ بنو۔خدا کے تم پر بہت سے اِحسان ہیں۔اگر وہ ناراض ہو گا تو پھر تمہارا نہ کوئی سفارشی ہو گا نہ ناصر و مددگار۔نہ جُرمانہ دے کر چُھوٹ سکو گے۔پھر فرماتا ہے۔بہت سے لوگ ہیں جن پر ہم انعام کرتے ہیں مگر وہ اپنی بَد عملیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو بارگاہِ ایزدی سے بہت دُور لے جاتے ہیں۔یہ بیان کر کے ایک اَور گروہ کا ذکر کیا جو اﷲ کا بڑا فرمانبردار ہے۔اِس ضمن میں جنابِ الہٰی نے فرمایا کہ تم متوجّہ اِلی اﷲ رہو۔یک جہتی حاصل کرو۔پھر حج کے احکام ، روزے کے احکام ، گھر کے معاملات کے متعلق ضروری مسئلے بتاتے ہوئے صدقہ و خیرات کی طرف متوجّہ کیا۔لین دین کے مسائل بیان کئے۔بیاج اور سُود سے منع کیا۔پھر فرمایا۔تم سمجھتے بھی ہو۔زمین و آسمان میں ہماری سلطنت ہے۔تم ہماری شریعت کی خلاف ورزی کر کے سُکھ نہیں پا سکتے۔دیکھو ہم جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے خوب جانتے ہیں اور اس کا حساب تم سے لیں گے۔بہت سے لوگ ہیں جن کو روپیہ مِل جائے وہ تیس مار خاں بن بیٹھتے ہیں ان کو واضح رہے کہ حساب ہو گا اور ضرور ہو گا۔ذرا تم اپنے گریبان میں مُنہ ڈال کر دیکھو کہ اٹھارہ برس کے بعد ہی سے سہی، آج تک اپنے نفس کے عیش و آرام کے لئے کِس قدر کوششیں کی ہیں اور اپنے بیوی بچّوں کے لئے کیسی کیسی مصائب جھیلی ہیں اور خدا کو کہاں تک راضی کیا۔سوچو۔اپنے ذاتی و دُنیاوی مقاصد کے حصول کے لئے کتنی کوششیںکرتے ہو اور اس کے مقابلہ میں الہٰی احکام کی نگہداشت کِس حد تک کرتے ہو۔( ایک مخلص لڑکا پنکھا کر رہا تھا اسے فرمایا چھوڑ دو اس طرح سُننے میں حرج ہوتا ہے ایسی باتوں کا مجھے خیال تک نہیں ہوتا اور مَیں بار بار کہہ چکا ہوں کہ خدا کے فضل سے تمہارے سلام کا۔تمہارے نذر و نیاز کا۔تمہاری تعظیم کا ہرگز محتاج نہیں۔میری تو یہ حالت ہے کہ مَیں جمعہ کے لئے نہا رہا تھا۔نفس کا محاسبہ کرنے لگا