حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 436 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 436

تعلیم الہٰی کے لئے اﷲ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون ٹھہرا دیا ہے وَاتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲ۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲) خدا کی راہوں کا عِلم انسان کو تقوٰی کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲتم تقوٰی اختیار کرو۔اﷲ تم کو علم عطا کرے گا جس سے تم اس کی رضامندی کی راہ پرچل سکو گے۔تقوٰی یہی ہے کہ انسان بالکل خدا کا ہو جاوے۔اس کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا ہر ایک حرکت و سکون خدا کے لئے ہو۔جب وہ ہمہ تن اپنے وجود اور ارادوں کو خدا کے لئے بنا دے گا تو پھر خدا بھی اس کا بن جاوے گا۔مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اﷲُ لَہ‘۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۴) علوم جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں درس تدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقوٰی اور محض تقوٰی سے ملتے ہیں۔وَاتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲ اگرمحض درس تدریس سے آ سکتے تو پھر قرآن مجید میں(الجمعۃ:۶)کیوں ہوتا۔    اگر کہیں ایسے سفر میں لین دین کرو جہاں تم کو کاتب نہ مِل سکے تو رہن سے کام لو مگر ضرور ہے کہ مرہون چیز کا قبضہ کر لیا کرو۔اور اگر ایسے معاملات میں ایک کو دوسرے کی امانت و دیانت پر یقین ہو تو امین کو چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ کا خوف کر کے امانت دار کے حقوق کو پ