حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 427
:اب اس پر کوئی بَلا آ جاوے جو اسے دبوچ لے اور وہ جَل بُن کر خاکِ سیاہ ہو جاوے تو کیسی بُری بات ہے۔اِسی طرح کوئی خیرات تو کرتا ہے مگر وہ ان ہدایات کے مطابق نہیں کرتا جو حق سُبحانہ‘ نے بتائے تو پھر سب خرچ اکارت جاوے گا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۰؍ مئی ۱۹۰۹ء) ایمان والو! اپنی کمائی اور زمین کی عمدہ برکات سے جو ہم نے تمہارے لئے نکالے ہیں اچھی اچھی چیزیںخدا کی راہ میں خرچ کرو۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۸۵) :ایک قِصّہ یاد ہے کِسی مُلّاں کے پاس لڑکا دُودھ لایا۔اس نے کہا تم تو کبھی نہیں لائے آج کیا بات ہے۔اُس نے کہا کُتا اِس میں مُنہ ڈال گیا تھا۔:بعض وقت اِنسان کچھ دینا چاہتا ہے مگر دل میں طرح طرح کے وسوسے اُٹھتے ہیں کہ یہ خرچ در پیش ہیں اگر اِس طرح سخاوت کی تو پاس کچھ بھی نہ رہے گا۔ان کے متعلق فرماتا ہے کہ شیطان تو یہ کہتا ہے مگر خدا فرماتا ہے کہ جو تم خلوصِ قلبئی