حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 426

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھ پر بہت سی مصیبتں یک لخت ٹوٹ پڑیں۔مَیں جماعت کرانے لگااَلْحَمْدُ کے اَلْ تک پہنچا تھا کہ حمد پڑھنے سے میری طبیعت نے مضائقہ کیا۔مَیں نے اپنے دل سے سوال کیا کہ تُو ایک قوم کا امام ہو کرالحمد پڑھنے لگا ہے۔کیا واقعی تیرا قلب شرح صدر سے اﷲ کے حضور میں شُکر گزار ہے۔اس وقت بہت اِضطراب کا وقت تھا۔ایک طرف یہ خیال کہ مقتدی منتظر ہیں دوسری طرف یہ کہ اگر نہیں پڑھتا تو مقتدیوں کو ابتلاہے اور اگر پڑھتا ہوں اور شرح صدر سے نہیں پڑھتا ہوں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔قربان جاؤں اپنے مُولیٰ کے۔معًا اس نے میری دستگیری کی اور سمجھایا۔ہم کوئی مصیبت بھیجتے ہیں اور اس پر اگر کوئی شخص صبر کرتا ہے تو ہم اسے بہتر سے بہتر بدلہ دیتے ہیں۔پس ایک کوڑی ضائع کرنے سے پونڈ ملے تو رنج کی کونسی بات ہے۔اب کیا معلوم کہ اس میں کِس قدر اِنعامات میرے لئے مخفی ہیں۔پھر مصیبتیں گناہوں کا کفارہ ہیں۔گناہوں کے عوض میں جو سزا مجھے ملنی تھی وہ خدا جانے کس قدر تکلیف دِہ ہوتی۔پھر یہ مصیبت موجود جو ہے اس پر بھی شکر کا مقام ہے کہ خدا اس سے بڑھ بڑھ کر مجھے مصیبتیں پہنچا سکتا ہے۔میری ناک کٹ جاتی۔مَیں بے عزّت ہو جاتا۔تباہ ہو جاتا۔کوئی عضو ہی جاتا رہتا۔لڑکا ہی نافرمان ہو جاتا تو کِس قدر دُکھ کا موجب ہوتا۔پس جب اس نے مصیبت پر اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے والے کو نعم البدل دینے اور عام و خاص رحمتوں سے ممتاز فرمانے کا وعدہ کیا ہے تو مَیں کیوں شرح صدر سے الحمد نہ پڑھوں۔اس کے بعد مَیں نے الحمد پڑھی۔غرض مومن کو چاہیئے کہ وہ مصیبتوں سے گھبرا نہ اُٹھے۔پھر کھجور میں ایک اَور خاصیّت ہے کہ اس کے پھل سال بھر قائم رہتے ہیں۔اِسی طرح مومن ہر حالت میں دوسرے کے لئے مفید بنتا ہے۔اس کے لئے کوئی خاص موسم نہیں۔تیسری بات کھجور میں یہ ہے کہ وہ غذا کا کام بھی دیتی ہے اور شربت کا بھی۔گٹھلی گھوڑوں کو دیتے ہیں مقوی ہوتی ہے۔اس کی لیف سے قِسم قِسم کی رسّیاں اور باریک تاروں سے بستر بناتے ہیں۔پَتّوں کی چٹائیاں، فرش اور صندوق بنتے ہیں۔شاخوں کی الماریاں۔اِس سے اُتر کر انگور ہے اِس کا منقّہ بھی غذا اور شربت دونوں کا کام دیتا ہے۔پھر اِس کے پتّے بھی مفید ہیں گو عام طور سے اِستعمال نہیں ہوتے۔پھر وہ باغ بھی ایسا ہو کہ اس میں نہریں بہتی ہوں۔:سیب۔سنگترے۔فالسے۔کیلے وغیرھا۔غرض اس باغ پر ساری عمر کا سرمایا لگایا جا چکا ہے اور اَب کوئی اَرمان باقی نہیں۔