حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 417
حزقیل نبی کی کتاب سے ملتا ہے جو بِلا اختلاف یہود کے نزدیک مسلّم ہے۔اس میں لکھا ہے ( دیکھو ۳۷ باب میں ) خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا… اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے بھر پُور تھی مجھے اُتار دیا… پھر اس نے مجھے کہا کہ تُو ان ہڈیوں پر نبوّت کر۔اسی نبوّت سے ( وہ آیت ہوئی) اور ان سے کہہ اے سُوکھی ہڈیو! تم خدا کا کلام سُنو! … دیکھو تمہارے اندر مَیں رُوح داخل کروں گا اور تم جیو گے… اور گوشت چڑھاؤں گا… تب اس نے مجھے کہا کہ اے آدم زاد!یہ ہڈیاں سارے اسرائیل ہیں۔دیکھ یہ کہتے ہیں کہ ہماری ہڈیاںسُوکھ گئیں اِس لئے تُو نبوّت کر… کہ دیکھ اے میرے لوگ مَیں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تمہیں تمہاری قبروں سے باہر نکالوں گا اور اسرائیل کے ملک میں لاؤں گا۔دومؔ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لَبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍتُوسَو سال رہا۔اور وہ خواب دیکھنے والا کہتا ہیلَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ دِن یا اس کا کچھ حصّہ۔پھر اس کے قول کی اﷲ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَ انْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَکہ تُو اپنی کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ۔ان پر سال نہیں گزرے اور گدھے کو دیکھ لو ویسے ہی کھڑا ہے۔پس یہ دو باتیں سوائے رؤیا کے کہیں جمع نہیں ہو سکتیں۔چنانچہ اِس کی مثال سورۃیوسف میں اُس بادشاہ کا خواب ہے جس نے بَعْضَ یَوْمٍمیں سات سال کے قحط کا نظّارہ دیکھا۔ (یوسف:۴۴)( مَیں سات گائیں موٹی دیکھتا ہوں۔کھاتی ہیں ان کو سات دُبلی اور سات بالیں سبز اور دوسری سُوکھی) یوسفؑ اس کی تعبیر فرماتے ہیں (یوسف:۴۸) غرض حزقیل نے نبوّت کی کہ یہ بستی سَو سال میں پھر آباد ہو گی اور پھر بنی اسرائیل اپنی سر زمین میں آئیں گے۔چنانچہ ستّر سال گزرنے پر دانیال نبی کی معرفت بنی اسرائیل کو سمجھایا گیا کہ فارس کے بادشاہوں سے تعلّقات قائم کرو۔پھر ان کی مدد سے وہ تیس برس میں آباد ہو گئے۔یہ دوسرا ثبوت ہے اس کا کہ اﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔(تشحیذالاذہان جلد۷نمبر۷ صفحہ۳۳۲،۳۳۳)