حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 416

علیہ وسلم) نے بھی فرمایا تھا کہ مَیں چالیس دِن کے بعد زندہ کیا جاؤں گا۔پھر عرض کیا کہ وہ آیت کِس طرح ہے؟ فرمایا کیا مُردہ آیت نہیں ہو سکتا؟ اﷲ تعالیٰ فرعون کی نسبت فرماتا ہے لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً (یونس:۹۳)چونکہ میری طبیعت میں شرم اور اَدب بہت تھا اِس لئے مَیںنے یہ نہ پُوچھا کہ اُنْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ کا کیا مطلب ہؤا؟ قاضی امیر حسین صاحب نے بھی ایک معنے کئے ہیں۔وہ اماتت کے معنے باستدلال آیت یَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ (ابراھیم:۱۸)پریشانی و پراگندگی کرتے ہیں۔اَمَاتَہٗ اﷲُ مِائَۃَ عَامٍ سے یہ مُراد ہے کہ حزقیل کو خد نے سَو سال تک غم اور پریشانی اور حُزن مکدّر الحیاۃ میں رکھا۔بیس برس کی عمر میں حُزن پیدا ہؤا۔یروشلم تباہ ہو چکا تھا۔۷۰ برس تباہی رہی ۳۰ برس میں آباد ہوئی پھر اﷲ تعالیٰ نے یوروشلم کو آباد کر دیا تو عزرا نبی تشریف لائے۔دیکھا کہ جہاں پانی نہ تھا وہاں کھانے پینے کی تمام چیزیں تازہ بتازہ، نَوبہ نَو ( نہ کہ سڑی بُسی) موجود ہیں بلکہ مال مویشی اور سواری کے جانور بھی۔یہ معنے بھی کِسی وقت دلچسپی سے خالی نہیں۔وَ انْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ:اَنّٰی یُحْیٖ کب اور کِس طرح زندہ کرے گا، کا عقلی جواب ہے کہ تم اپنی ہڈیوں ہی کو دیکھو کہ اﷲ انہیں آہستہ آہستہ کس طرح اُٹھاتا ہے۔جہاد میں اِس قصّے کے بیان کا یہ فائدہ ہے کہ خدا نے فرمایا ویرانی اور آبادی میرے اختیار میں ہے پس تم اپنے لوگوں میں سے کسی کے قتل ہو جانے پر حُزن مت کرو۔تم اس پر کامل یقین کرو۔وہ ہمیں ایک زندہ قوم بنا دے گا۔مَیں نے ایک مشہور مفسّر کو دیکھا ہے کہ اُس نے عَامٍ کے معنے دِن کے کئے ہیں تو اِس لحاظ سے مِائَۃَ عَام ۱؍ ۲۲ چِلّے مراد لیتا ہے جو حزقیل نبی کو دعا و اضطراب میں جو ایک قِسم کی موت تھی کاٹنے پڑے۔یہ معنے قاموس نے لکھے ہیں مگر قاموس نے غلطی کھائی ہے۔وہ لفظ دراصل عیامہے جسے وہ عام سمجھا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۶؍مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص کا ذکر ہے جو ایک بستی کے قریب سے گزرا اور از راہِ استعجاب کہنے لگا اَنّٰی یُحْیٖ ھٰذِہِ اﷲُ۔یہاں بھی لوگوں نے بحث کی ہے کہ وہ کافر تھا یا قیامت کا مُنکر تھا یا مومن تھا بلکہ نبی تھا۔بعض کے نزدیک یرمیاہ بعض کے عُزَیر بعض کے حزقیل تھا۔حالانکہ یہ بحث فضول ہے۔تواتر اور پھر یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہے کہ یہ بستی یروشلم تھی جو بخت نصر بابلی کے ذریعہ تباہ ہوئی۔حزقیل نبی گزرے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں رؤیا میں اس کی آبادی کا نظّارہ دکھایا۔رؤیا کا ثبوت ایک تو