حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 411

کیونکہ یہ تو ایک بیوقوف سے بیوقوف بھی دعوٰی نہیں کرتا کہ حیات و ممات طبعی کا موجد مَیں ہوں۔اس کے ثبوت میں ہم موت کے کئی معنے پیش کرتے ہیں جو لغاتِ عرب سے ثابت ہیں۔موت کے ایک معنے ہیں نشوونما کے۔چنانچہ فرمایا(الحدید:۱۸)اور احساس کا دُور ہونا۔قوٰی کا زوال جیسے اِس آیت میں(مریم:۲۴) مَر جانے کی دعا جیسے احادیث میںمنع ہے ایسے ہی تو رات میں بھی۔پس مریمؑ اپنے لئے موت کی دعا نہیں کر سکتی تھی۔۳۔زوالِ عقل۔(الانعام:۱۲۳) یعنی کم عقل ،بے ایمان، انسانیّت سے نابلد تھے۔آخر وہ انبیاکی پاک صُحبت سے عقلوں والے ہو گئے۔۴۔حزن مکدّر لِلحیاۃ۔یَاْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّمَا ھُوَ بِمَیِّتٍ (ابراھیم:۱۸)ہرطرف سے دُکھ اور حیات کو مکدّر کرنے والے آئیں گے۔۵۔نیند کے معنے۔سونے کے بعد اُٹھے تو یہ دعا احادیث میں آئی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا۔۶۔قوّتِ حیات کا بطلان۔اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ(زمر: ۳۱) ۷۔جن کا بدلہ نہ لیا جاوے وہ بھی مُردہ ہیں۔سبعہ معلّقہ کا ایک شعر ہے اِنْ نَبَشْتُمْ بَیْنَ مِلْحَۃَ فَالصَّا قِبِ فِیْھَا الْاَمْوَاتُ وَالْاَحْیَاء‘ ۔زندہ کہنے سے یہ مراد ہے کہ ان کا بدلہ لیا جاوے گا۔غرض یہ موت کا لفظ متشابہ رنگ میں آیا ہے۔پس جو راسخ فی العِلم ہوتے ہیں وہ مختلف المعانی الفاظ کو حسبِ موقع معنی کا لباس پہناتے ہیں۔۸۔ترقّی کے رُک جانے کا نام بھی موت ہے۔۹۔فقر کا نام بھی موت ہے۔۱۰۔موت العقل۔موت العلم اور ذلّت کا نام بھی موت ہے۔اَوَّلُ مَنْ مَّاتَ اِبْلِیْسُ۔پس یہاں حسبِ موقع موت کے معنے ویرانی کے ہیں۔ابراہیم نے کہا کہ آبادی و ویرانی میرے ربّ کے اختیار میں ہے۔وہ کافر بولا۔نہیں یہ کام بادشاہوں کے متعلق ہے۔مَیں بھی بادشاہ ہوں پس یہ تو مَیں بھی کر سکتا ہوں۔سُبحان اﷲ۔انبیاء کی کیا عقل ہوتی ہے۔فرمایا َّنادان خیال تو کر تُو اپنے مذہب کو چھوڑ بیٹھا ہے تم تو سُورج کی پرستش کرتے ہو اس وجہ سے کہ